خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 15 of 703

خطبات نور — Page 15

15 جاؤں۔غرض عام طور پر انسان فطرتا ایک کمپیٹیشن (Competition) میں لگا رہتا ہے اور ساتھ والوں سے سر بر آوردہ ہونے کا آرزومند ہوتا ہے۔بچے چاہتے ہیں کہ کھیل میں دوسری پارٹی سے بڑھ کر رہیں اور جیت جاویں۔عورتیں کھانے پہننے ، لباس و زیورات میں چاہتی ہیں کہ اپنی ہم نشینوں سے بڑھ کر رہیں۔پس یہ خواہش اور آرزو جو فطرتی طور پر انسان کے دل میں پائی جاتی ہے اس کے پورا کرنے کے اسباب اور وسائل قرآن کریم میں اس مقام پر رحیم کریم مولا بیان فرماتا ہے اور وہ چند ایک اصول پر مشتمل ہے۔پہلا اصل۔انسان غور کرے کہ اس کے دل میں اپنے سے بڑے کا ڈر ہوتا ہے۔ادنی ادنی کام والے لوگ نمبردار کا اور نمبردار تحصیلدار کا اور تحصیلدار حکام بالا دست کاڈر رکھتے ہیں۔ماتحت اگر افسروں کا ڈر دل میں نہ رکھیں تو وہ اپنے فرض منصبی کو اس خوبی اور صفائی سے نہ کریں جس سے وہ اس ڈر کی حالت میں کرتے ہیں۔اب اس اصل کو زیر نظر رکھ کر مولا کریم فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو نیکیوں اور بھلائیوں کے کمپیٹیشن (Competition) اور مقابلہ میں سرفراز ہوتے ہیں سب سے پہلے وہ ہر ایک کام کرتے وقت اس بات کا لحاظ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا نگران ہے اور ان کے ہر فعل کھانے پینے دوستی دشمنی، بغض و عداوت لین دین ، غرض تمام معاملات میں ان کو دیکھتا ہے۔پس مومن وہ ہوتے ہیں جو خیرات میں بڑھتے ہیں، جو ان اعمال و افعال کے وقت علیم و خبیر کی ذات اور نگرانیوں پر نگاہ کرتے ہیں اور ہر آن خوف و خشیت الہی سے لرزاں رہتے ہیں۔اس لئے ہر ایک کام میں خواہ کھانے پینے کا ہو یا بغض و عداوت ہو ، دوستی ہو یا دشمنی ہر بات میں خوش رہنے اور بڑھ کر رہنے کے لیے پہلا اور ضروری اصل کیا ہے؟ خشیت الہی۔عمل کرنے سے پہلے دیکھ لیا کرو کہ یہ عمل خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کی وجہ سے کسی سرخروئی کا باعث ہے یا اس کی نارضامندی کا موجب ہو کر سیاہ روئی کا پیش خیمه؟ خوف الہی کے بعد دو اصل اور ہیں۔وہ کیا؟ ایک اخلاص۔دوسرا صواب۔کوئی عمل صالح ہو نہیں سکتا جب تک اخلاص اور صواب نہ ہو۔اخلاص کیا ہے؟ اخلاص کے معنے ہیں کہ جو کام کرو اس میں یہ مد نظر ہو کہ مولا کریم کی رضا حاصل ہو۔حب ہو تو حبا" اللہ ہو۔بغض ہو تو۔غضا" اللہ ہو۔کھاؤ تو اس لئے کہ کھانے کا حکم دیا ہے۔پیتے ہو تو سمجھ لو کہ وَاشْرَبُوا کے حکم کی تعمیل ہے۔غرض سارے کاموں میں اخلاص ہو، رسم وعادت نفس و ہوا کی ظلمت نہ ہو۔اندرونی جوش اس کے باعث نہ ہوئے ہوں۔