خطبات نور — Page 183
183 جانے کو احیاء سے تعبیر کرتے ہیں۔حضرت ابراہیم کے عملدرآمد اور ان کی تعلیم کا خلاصہ قرآن شریف نے ان آیات میں بیان فرمایا ہے کہ جیسا اس کے رب نے اسے کہا اسلیم کہ تو فرمانبردار ہو جاتو ابراہیم نے کوئی سوال کسی قسم کا نہیں کیا اور نہ کوئی کیفیت دریافت کی کہ میں کس امر میں فرمانبرداری اختیار کروں؟ بلکہ ہر ایک امر کے لئے خواہ وہ کسی رنگ میں دیا جاوے اپنی گردن کو آگے رکھ دیا اور جواب میں کہا أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (البقرۃ:۱۳۲) کہ میں تو رب العالمین کا تابعدار ہو چکا۔ابراہیم علیہ السلام کی یہی فرمانبرداری اپنے رب کے لئے تھی جس نے اسے خدا کی نظروں میں برگزیدہ بنا دیا۔وہ لوگ جو ابراہیم کا دین یعنی ہر طرح اپنے آپ کو خدا کے سپرد کرنا اختیار نہیں کرتے ، غلطی کرتے ہیں اور اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو سفیہ قرار دیتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اسے دنیا میں بھی برگزیدہ کیا۔پس وہ لوگ جو کہ دنیا میں ترقی کرنا چاہتے ہیں وہ غور کریں کہ خدا کی فرمانبرداری سے وہ ابراہیمی مراتب حاصل کر سکتے ہیں۔ہر ایک قسم کی عزت ابراہیم علیہ السلام کو حاصل ہے اور یہ سب کچھ اَسْلَمْتُ کا نتیجہ ہے۔وَوَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ (البقرة: ۱۳۳) ابراہیم علیہ السلام نے اولاد کو بھی یہی سکھایا کہ جب تک خدا تعالیٰ حکم دے تب تک ہی تم اس کی اطاعت کرتے رہو۔وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے کلام کے منکر ہیں اور ان کا یہ خیال ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے کرنا تھا کر چکا اس مقام پر سوچیں کہ اگر یہ سلسلہ بند ہو چکا تھا اور ابراہیم علیہ السلام کے بعد اور کوئی احکام ضرورت زمانہ کے لحاظ سے نازل نہ ہونے تھے تو پھر اسلم کی آواز کی اطاعت کے لئے کیوں ابراہیم نے اولاد کو تاکید کی۔پھر صرف ابراہیم ہی نہیں بلکہ اس کا پوتا حضرت یعقوب علیہ السلام بھی اپنی اولاد کو یہی حکم دیتا ہے فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (البقرۃ:۱۳۳) کہ اے میری اولاد! تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ دین (ابراہیمی) پسند فرمایا۔کہ تم ہر وقت خدا کی فرمانبرداری میں رہو حتی کہ تمہاری موت بھی اس فرمانبرداری میں ہو۔یہ فرمانبرداری جو کہ ہر ایک کامیابی اور ترقی کا چشمہ ہے انسان اس سے کس طرح محروم رہ جاتا ہے؟ اس کا باعث قرآن شریف میں تواریخی واقعات پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔پہلا نا فرمان جس کی تاریخ ہمیں معلوم ہے ابلیس ہے۔وہ کیوں نافرمان بن گیا؟ اس کی خبر بھی قرآن شریف نے بتلائی ہے کہ اس نے اباء اور استکبار کیا یعنی اس میں انکار اور تکبر تھا جس کی وجہ سے وہ اسلیم کی تعمیل نہ کر سکا۔اس وقت بھی بہت لوگ ہیں کہ اس اباء اور استکبار کی وجہ سے اسلم کی تعمیل سے محروم ہیں۔کسی کو عقل پر تکبر ہے، کسی کو علم پر کسی کو اپنے بزرگوں پر جو کہ ان کے نقصان کا باعث ہو رہا ہے اور جب کبھی خدا