خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 184 of 703

خطبات نور — Page 184

184 کے مامور آتے رہے ہیں کہیں اباء اور استکبار ان کی محرومی کا ذریعہ ہوتے رہے ہیں۔انسان جب ایک دفعہ منہ سے ”نہ " کر بیٹھتا ہے تو پھر اسے دوبارہ ماننا مشکل ہو جاتا ہے اور لوگوں سے شرم کی وجہ سے وہ اپنی ہٹ پر قائم رہنا پسند کرتا ہے۔اس کا نتیجہ پھر کھلم کھلا انکار اور آخر کار وَ كَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ (البقرة: ۳۵) کا مصداق بننا پڑتا ہے۔چونکہ مامورین الہی کا سلسلہ تو برابر انسانوں اور زمانہ کی ضرورتوں کے موافق ہے اور اپنی قدیم سنت کے لحاظ سے خدا نے نبی اور رسول معبوث کرنے تھے اس لئے قرآن شریف کے اول رکوع میں ہی تعلیم دی ہے کہ انسان کو انکار کا پہلو حتی الوسع اختیار ہی نہ کرنا چاہئے۔قرآن شریف کے اول رکوع میں ہی اس کا ذکر ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (البقرة:- چونکہ وہ لوگ اول انکار کر چکے تھے اس لئے سخن پروری کے خیال نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مجلسوں میں بیٹھنے اور آپ کی باتوں پر غور کرنے نہ دیا اور انہوں نے آپ کے اندار اور عدم انذار کو برابر جانا۔اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ لا يُؤْمِنُونَ یعنی ہمیشہ کے لئے ایمان جیسی راحت اور سرور بخش نعمت سے محروم ہو گئے۔یہ ایک خطرناک مرض ہے کہ بعض لوگ مامورین کے انذار اور عدم انذار کی پروا نہیں کرتے۔ان کو اپنے علم پر ناز اور تکبر ہوتا ہے اور کہتے ہیں کہ کتاب الہی ہمارے پاس بھی موجود ہے۔ہم کو بھی نیکی بدی کا علم ہے۔یہ کونسی نئی بات بتانے آیا ہے کہ ہم اس پر ایمان لاویں۔ان کمبختوں کو یہ خیال نہیں آتا کہ یہود کے پاس بھی تو تو رات موجود تھی۔اس پر وہ عمل درآمد بھی رکھتے تھے۔پھر ان میں بڑے بڑے عالم ، زاہد اور عابد موجود تھے پھر وہ کیوں مردود ہو گئے ؟ اس کا باعث یہی تھا کہ تکبر کرتے تھے۔اپنے علم پر نازاں تھے اور وہ اطاعت جو کہ خدا تعالی اسلیم کے لفظ سے چاہتا ہے ان میں نہ تھی۔ابراہیم کی طرز اطاعت ترک کر دی۔یہی بات تھی کہ جس نے ان کو مسیح علیہ السلام اور اس رحمہ للعالمین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے سے جس سے توحید کا چشمہ جاری ہے ماننے سے باز رکھا۔لہ یہودیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور وحی پر ایمان لانے سے جو چیز مانع ہوئی وہ یہی تكبر علم تھا۔فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ (المومن (۸۳) انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہمارے پاس ہدایت کا کافی ذریعہ ہے۔صحف انبیاء اور صحف ابراہیم و موسی ہمارے پاس ہیں۔ہم خدا تعالیٰ کی قوم کہلاتے ہیں۔نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهُ وَاحِبَّاوة (المائدة») کہ کر انکار کر دیا کہ ہم عربی آوٹی کی کیا پروا کر سکتے ہیں۔اس تکبر اور خود پسندی نے انہیں محروم کر دیا اور وہ اس رحمۃ للعالمین کے ماننے سے انکار کر