خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 182 of 703

خطبات نور — Page 182

182 قرب الہی کے حاصل کرنے کا پھر سحری کے وقت بذریعہ نوافل اور دعاؤں کے خدا کے فضل کو طلب کرنے کا موقع ملتا ہے۔اس لئے اس خوشی میں لوگ صدقہ فطر کے ذریعہ غریب لوگوں کو خوش کیا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اصل اسلام کے اجتماع کے مختلف اوقات مقرر کیے ہیں جن میں وہ باہمی ملاپ سے خدا تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کر سکتے ہیں اور ایک محلہ کی مسجد میں اس محلہ کے آدمی پانچ وقت جمع ہوتے ہیں۔پھر ہر ہفتہ میں جمعہ کے روز شہر کے آدمی مل کر شہر کی کسی بڑی مسجد میں اس قومی اجتماع کو قائم کرتے ہیں۔پھر یہ عیدین کے ایام ہیں کہ جن میں علاوہ شہر کے باہر کے آدمی بھی آجاتے ہیں جیسے کہ اس وقت بھی بعض دوست مختلف مقامات سے یہاں آئے ہوئے ہیں۔چونکہ آج کی تقریب کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فعل سے ایک خاص مناسبت ہے اس لئے میں نے ان آیات کو پڑھا ہے جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ہے۔حضرت ابراہیم ایک ایسا انسان گذرا ہے کہ جس نے خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلقات ہونے کی وجہ سے اپنی قوم اور قریبی اور بعیدی رشتہ داری کے تعلقات کی پرواہ نہ کی تھی اور اپنے اب " یعنی چچا سے بھی باوجود اس کے کہ ان کے تعلقات اس سے بہت تھے مباحثہ کیا تاکہ بد رسوم کا استیصال ہو۔اس مقام پر ”اب“ کے معنوں میں محققین کا اختلاف ہے لیکن میرے نزدیک اس کے معنے اس جگہ حقیقی باپ کے ہر گز نہیں ہیں۔ایسا ہی ابراہیم علیہ السلام نے بادشاہ وقت سے بھی مقابلہ کیا اور یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی عظمت کے قائم کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔اس مباحثہ میں احیاء اور امانت کی بھی ایک بحث تھی جہاں ابراہیم علیہ السلام کا قول ربي الَّذِي يُحْيِ وَيُمِيتُ (البقرة:٢٥٩) درج ہے اور جو کہ توحید باری تعالیٰ کے متعلق ایک عجیب فقرہ ہے جس کو ہمارے زمانہ سے بڑا تعلق ہے۔کیونکہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی مردے زندہ کئے تھے تو پھر ابراہیم علیہ السلام کا یہ استدلال کوئی قابل وقعت شے نہیں ہو سکتا اور ان کا یہ کام اور کلام سب خاک میں مل جاتا ہے۔ہاں ایک معنے کی رو سے انبیاء بھی احیاء کرتے ہیں مگر چونکہ خدا تعالیٰ نیسَ كَمِثْلِهِ شَی ٤ (الشوری:۱۳) ہے اس لئے اس کا احیاء بھی لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَی : ہی ہو گا اور انبیاء کا احیاء اس سے کوئی لگا نہ کھائے گا۔یہ بالکل سچ ہے کہ احیاء موتی صرف ” رب " کا ہی کام ہے اور وہ بھی کسی اور عالم میں۔انبیاء کے احیاء کے یہ معنے ہیں کہ بعض شریر لوگ جو کہ ان کی پاکیزہ مجالس میں آئے رہتے ہیں اور ان میں سے بعض اپنی کسی فطری سعادت کی وجہ سے جو کہ ان کے نطفہ میں آئی ہوتی ہے ہدایت پا جاتے ہیں ان کی کفر اور فسق کی حالت کا نام موت ہوتا ہے اور ہدایت پا