خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 6 of 703

خطبات نور — Page 6

6 ہو جاتا ہے جس سے اس کو کسی قسم کی تکلیف یا رنج پہنچے۔اور یہ ایک فطرتی اور طبعی تقاضا انسان کا ہے۔پس اسی فطرت اور طبیعت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ اس مقام پر فرماتا ہے کہ اللہ کریم کے احسانوں کا مطالعہ کرو اور ان کو یاد کر کے اس محسن اور منعم کی محبت کو دل میں جگہ دو۔اس کے بے شمار اور بے نظیر احسانوں پر غور تو کرو کہ اس نے کیسی منور اور روشن آنکھیں دیں جن سے وسیع نظارہ قدرت کو دیکھتے اور ایک حظ اٹھاتے ہیں۔کان دیئے جن سے ہر قسم کی آوازمیں ہمارے سننے میں آتی ہیں۔زبان دی جس سے کیسی خوشگوار اور عمدہ باتیں کہہ کر خود بخود خوش ہو سکتے ہیں۔ہاتھ دیئے کہ جن سے بہت سے فوائد خود ہم کو اور دوسروں کو پہنچتے ہیں۔پاؤس دیئے کہ جن سے چل پھر سکتے ہیں۔پھر ذرا غور تو کرو کہ دنیا میں اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ ادنی سا احسان بھی کرتا ہے تو وہ اس کا کس قدر ممنون ہوتا ہے اور ہر طرح سے اس احسان کو محسوس کرتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کے احسان جو کل دنیا کے احسانوں سے بالا اور بالاتر ہیں۔اور جو سچ پوچھو تو وہ احسان بھی جو دوسرا ہم سے کرتا ہے دراصل اللہ تعالیٰ ہی کے احسان ہیں جس نے یہ توفیق عنایت فرمائی۔کوئی کسی کو نو کر کر دیتا ہے یا دعوت کرتا ہے یا کپڑا دیتا ہے۔پر سوچو تو سہی کہ اگر خداداد طاقتیں نہ ہوں تو ہم کیا سکھ ان سے اٹھا سکتے ہیں۔دعوت میں عمدہ سے عمدہ اغذیہ اور کھانے کے سامان ہوں لیکن اگر قے کا مرض ہو یا پیٹ میں درد ہو تو وہ کھانے کیا لطف دے سکتے ہیں اور ان سے کیا مزہ اٹھایا جا سکتا ہے؟ عمدہ سے عمدہ چیز بجو فضل الہی فائدہ اور سکھ نہیں دے سکتی۔یہ روشنی جس سے ہزارہا سکھ اور فائدے پہنچتے ہیں، کس نے دی؟ اس نے جو نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ (النور:۳۲) ہے۔ہوا پانی کس نے عطا فرمایا؟ اسی منعم حقیقی کی نعمتوں اور برکتوں کا ایک شعبہ ہے۔سرسبز کھیت اور باغوں میں پھل لگانا اس کی نوازش اور عنایت ہے۔غرض کل دنیا کی نعمتوں سے جو انسان مالا مال ہو رہا ہے یہ اس کی ہی ذرہ نوازیاں ہیں۔جسمانی نعمتوں اور برکتوں کو چھوڑ کر اب میں ایک عظیم الشان نعمت روح کے فطرتی تقاضے کو پورا کرنے والی نعمت کا ذکر کرتا ہوں۔وہ کیا؟ یہ اس کا پاک اور کامل کلام ہے جس کے ذریعے سے انسان ہدایت کی صاف اور مصفا راہوں سے مطلع اور آگاہ ہوا اور ایک ظلمت اور تاریکی کی زندگی سے نکل کر روشنی اور نور میں آیا۔ایک انسان دوسرے انسان کی باوجود ہم جنس ہونے کے رضا سے واقف نہیں ہو سکتا تو پھر اللہ تعالیٰ کی رضا سے واقف ہونا کس قدر محال اور مشکل تھا۔یہ خدا تعالیٰ کا احسان عظیم ہے کہ اس نے اپنی رضا کی راہوں کو بتلانے اور اپنی وراء الورٹی مرضیوں کو ظاہر کرنے کے لئے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ قائم فرمایا۔انسان دنیا کے عجائبات اور خداداد چیزوں میں غور کر کے سکھ پاتا ہے۔لیکن وہ ابدی اور دائمی خوشی جو خود اللہ تعالی ظاہر کر دے کیسی بچی ہو گی۔