خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 5 of 703

خطبات نور — Page 5

یکم شوال ۱۳۲۶ھ ۱۳ فروری ۱۸۹۹ء 50 خطبہ عید الفطر تشہد، تعوذ اور تسمیہ کے بعد آپ نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی۔يُبَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِيْنَ - واتَّقُوا يَوْمًا لا تَجْزِى نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا هُمْ يُنْصَرُونَ۔(سورة البقرة: ۴۸-۴۹) اور پھر فرمایا:۔اللہ تعالی ہمارا مالک ہمارا خالق ہمارا رازق کثیر اور بے انتہا انعام دینے والا مولا فرماتا ہے کہ میری نعمتوں کو یاد کرو۔انسان کے اندر قدرت نے ایک طاقت ودیعت کر رکھی ہے کہ جب کوئی اس کے ساتھ احسان کرتا ہے تو اس کے اندر اپنے محسن کی محبت پیدا ہوتی ہے۔جُبِلَتِ الْقُلُوبُ عَلَى حُبِّ مَنْ أحسن إليها (جامع الصغیر)۔اور ایسا ہی اس آدمی سے اس کے دل میں ایک قسم کی نفرت اور رنج پیدا