خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 7 of 703

خطبات نور — Page 7

1 7 کس قدر کاوش اور تکلیف سے جسمانی سکھ حاصل کرنے کے لئے انسان کپڑا اور غذا بہم پہنچاتا ہے۔مگر ایک وقت آتا ہے کہ کپڑا پھٹ جاتا ہے اور غذا کا فضلہ باقی رہ جاتا ہے۔روحانی نعمتیں ابد الآباد کی راحتیں ہیں۔دنیا میں، مرنے میں، جنت میں، حشر و نشر میں ہمارے ساتھ ہیں۔غرض خدا تعالیٰ کے دلچسپ انعامات میں سے انبیاء اور رسل کا بھیجنا ہے۔گذشتہ ایام میں چونکہ رستے صاف نہ تھے ، تعلقات باہمی مضبوط نہ تھے، اس لئے ایک ایک قوم میں نبی اور رسول آتے رہے۔جب مشرق اور مغرب اکٹھا ہونے لگا خدا کے علم میں وہ وقت خلط ملط کا آگیا تو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔انبیاء علیہم السلام اور جس قدر رسول آئے فرداً فرداً قوموں کی اصلاح کے لئے آئے۔ان کا جامع اور راستبازوں کی تمام پاک تعلیموں کا مجموعہ۔قرآن کریم ہے جو جامع اور مہیمن کتاب ہے۔فِيهَا كُتُبْ قَيِّمَةٌ (البينة: ٢) فرمایا۔پھر انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کے لئے ایک مشکل یہ پیش آتی تھی کہ ان میں کوئی خلیفہ اور کوئی یاد دلانے والا نائب نہ ہو تا تھا۔اس لئے لوگ بے خبر ہو جاتے تھے اور قوم پھر سو جاتی تھی۔مگر مولا کریم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا دامن چونکہ اِلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وسیع کر دیا ہے اور آپ کا ہی دعوى إِنَّ رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف ) کا ہے اور ایسی مضبوط کتاب آپ کو عطا فرمائی ممکن تھا کہ لوگ بے خبر رہتے، اس کی حفاظت کا انتظام بھی خود ہی مولا کریم نے فرما دیا۔جیسے ظاہری حفاظت کے لئے قراء اور حفاظ ہیں، ایسے ہی باطنی تعلیم کے لیے ایک سامان مہیا فرمایا۔ہزارہ مذاہب اس وقت دنیا میں نظر آئیں گے۔مگر جب دیکھا گیا تو انبیاء علیہم السلام کا ہی مذہب عمدہ پایا۔کوئی درختوں کی پوجا کرتا ہے۔کوئی پتھروں کے آگے سرجھکاتا ہے۔افسوس انسان ہو کر حیوان اور بے جان استھان کی پرستش کرتا ہے۔اور پھر ایک اپنے جیسے کھاتے پیتے محتاج اور ناتواں انسان کو معبود مانتا ہے۔ایسی صورت میں توحید کا پاک چشمہ مکدر ہو چکا تھا اور قریباً توحید پرستی کا نام و نشان مٹ گیا تھا۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس پاک چشمہ اور مبارک سلسلہ توحید کو قائم کیا اور پھر اس کی تکمیل کی۔ہر ایک قسم کی گندی اور ناپاک بت پرستی کو دور کر دیا۔اللہ تعالیٰ کے سوا اس کے کسی اسم کسی فعل اور کسی عبادت میں غیر کو شریک کرنا یہ شرک ہے۔اور تمام بھلے کام اللہ تعالیٰ ہی کی رضاء کے لئے کرے اس کا نام عبادت ہے۔لوگ مانتے ہیں کہ کوئی خالق خدا تعالیٰ کے سوا نہیں۔اور یہ بھی مانتے ہیں کہ موت اور حیات خدا تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں اور قبضہ اقتدار و اختیار میں ہے۔یہ مان کر بھی دوسرے کے لئے سجدہ کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں اور