خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 4 of 703

خطبات نور — Page 4

4 کی مار ہوگی اور ممکن ہے کہ وہ ذلت تم کو دوستوں ہی کی طرف سے آجاوے۔ایسے لوگ جو خدا سے قطع تعلق کرتے ہیں وہ کون ہوتے ہیں؟ وہ فاسق فاجر ہوتے ہیں۔ان میں سچا اخلاص اور ایمان نہیں ہوتا۔یہی نہیں کہ وہ ایمان کے کچے ہیں۔نہیں۔ان میں شفقت علی خلق اللہ بھی نہیں ہوتی۔یاد رکھو کبھی یہ بات نہیں ہو سکتی کہ قدوس کے قبع اور بھلے مانس ذلیل ہوں۔نہیں۔وہ دنیا میں، قبر میں، حشر میں، جنت میں عیش اور سچا آرام پاتے ہیں۔وہ ان لوگوں کے جو آگ میں جل رہے ہیں برابر نہیں اور ہرگز نہیں۔وہ لوگ جو کچے راستباز اور متقی ہیں اور ہمیشہ سکھ پاتے ہیں، یہ لوگ ہی آخر کار کامیاب ہونے والے ہیں۔میں پھر آخر میں کہتا ہوں کہ کامل ایمان کے بدوں انسان اس درجہ پر نہیں پہنچتا۔کامل ایمان یہی ہے کہ اسمائے الہی پر ایمان لاؤ کہ اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ہے کہ ایک ناپاک اور گندے کو ایک پاک اور مومن سے ملاوے اور گندے کو عزت دیوے۔پھر کامل ایمان میں سے یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وسائط پر ایمان لاؤ۔یعنی ملائکہ پر اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان لاؤ۔وفادار ہو۔عسرویسر میں قدم آگے ہی بڑھاؤ اور جزا و سزا پر ایمان لاؤ۔نمازوں کو مضبوط کرو اور زکو تیں دو۔غرض یہ لوگ ہوتے ہیں جو متقی کہلاتے ہیں۔خدا تعالی آپ کو اور مجھے توفیق دے کہ ہم متقی بن جاویں۔یاد رکھو کہ دنیا سے وہی تعلق ہو جو خدا چاہتا ہے۔آخر جیت راستبازوں ہی کی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ مخفی در مخفی حالات کا واقف ہے۔ہمیشہ اس کے پاک قانون کے متبع بنو اور ہر حالت میں رضائے الہی کے طالب رہو اور اس پاک چشمہ سے دور نہ رہو۔آمین۔الحکم جلد ۳ نمبر ۵----۱۰ر فروری ۱۸۹۹ء صفحه ۸-۹) ⭑-⭑-⭑-⭑