خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 114 of 703

خطبات نور — Page 114

114 نظر آتا ہے۔مگر خدا کے فضل سے مجھے محض اللہ ہی کے فضل سے اس آیت قُلْ مَا كُنْتُ بِدُعَا مِنَ الرسل (الاحقاف) کے بعد راستباز کی شناخت میں کوئی مشکل نہیں پڑی۔مگر بات یہ ہے کہ تعلیم الہی کے بغیر یہ سمجھ میں نہیں آسکتی اور تعلیم الہی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ قانون ٹھہرا دیا ہے۔وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ (البقره:۳۸۳) میں پھر کہتا ہوں کہ ملت ابراہیم بڑی عجیب راحت بخش چیز ہے۔وہ ملت وہ سیرت کیا ہے؟ اسلم فرمانبردار ہو کر چلو۔قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ العَالَمِينَ پھر اس ملت اور سیرت کو چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شفابخش، رحمت اور نور پایا تھا اس لئے نہ صرف اپنے ہی لئے اس کو پسند کیا بلکہ وصی بِهَا إِبْرَاهِيمُ (البقرة: ۳۳) اسی سیرت اور ملت کی ابراہیم نے اپنی اولاد کو وصیت کی۔ایک دانا انسان اولاد کے لئے کوئی ضرر رساں چیز نہیں چاہتا۔مکانوں میں ان کے لئے مضبوطی، خوبصورتی اور دیگر لوازم کی کیسی سعی کرتا ہے اور کیوں؟ اولاد کی بہتری کے خیال سے یہ انسانی فطرت میں ہے کہ وہ اولاد کی بہتری چاہتا ہے۔پھر ابراہیم جیسا اولوالعزم انسان جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔الَّذِي وَفَّى (النجم:۳۸) اس نے اپنی اولاد کے لئے کیا خواہش کی ہوگی ؟ اور وہ خواہش اس وصیت ابراہیمی سے ملتی ہے اور اس دعا سے اس کا پتہ ملتا ہے جو انہوں نے کی رَبَّنَا وَ ابْعَثُ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمْ (البقرة:۳۰)۔اس وصیت پر غور کر کے ہمیں اندازہ کرنا چاہئے کہ ہم اپنی اولاد کے لئے کیا خواہش کرتے اور کیا ارادہ رکھتے ہیں؟ الغرض یہی باتیں تھیں یعنی اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہونا اور اس کے احکام پر کار بند ہونا۔اسی کی وصیت اپنی اولاد کو کی اور اس کے پوتے کے بیٹے کریم ابن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق کی بھی یہی ملت تھی۔اب تم سب اپنے اندر ہی اندر سوچو کہ کیا خواہش اور ارادے ہیں۔میں نے ایک شخص کو کہا کہ قرآن پڑھا کرو۔اس نے کہا کہ میری شان کے موافق کوئی قرآن مجھے دیدو۔میری سمجھ میں نہ آیا کہ کیوں اس نے قرآن پر خرچ کرنے سے مضائقہ کیا۔علی العموم لوگ یہی چاہتے ہیں کہ قرآن مفت مل جاوے اور دیگر اخراجات میں خواہ کسی قدر بھی روپیہ خرچ کریں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی طرف توجہ ہی نہیں۔دیکھو ہمارے امام کو الہام ہو چکا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ سورج کے ہوتے سورج کے وجود پر۔وہ کہتا ہے کہ جن کی خواہش اور محبت قرآن کریم سے نہ ہو گی ان کی اولاد گندہ خراب وختہ ہو گی۔اب تم سب اپنی اپنی جگہ دیکھو کہ بیاہ شادی اور معاشرت کے وقت کیا کیا خواہشیں ہوتی ہیں۔ایک طرف ان کو رکھو اور دوسری طرف اس