خطبات نور — Page 115
115 پیغام الہی پر غور کرو جو امام کی معرفت ملا ہے۔پھر ابراہیم کا پوتا یعقوب اپنی اولاد کو مخاطب کر کے کہتا ہے يُبَنِي إِنَّ اللهَ اصْطَفى لَكُمُ الدِّينَ (البقره:۳۳) اے میری اولاد اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک دین برگزیدہ کیا ہے۔فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (البقرة (۳۳) پس تم کو تاکید کرتا ہوں کہ تمہاری موت نہ آوے مگر ایسے رنگ میں کہ تم مسلمان ہو۔اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے ہو۔انسان کو موت کا وقت معلوم نہیں اور پتہ نہیں اس وقت حواس درست ہوں یا نہ ہوں اور پھر یہ امر اختیاری نہیں ، اس لئے یہ عقدہ کس طرح حل ہو؟ ایک صحیح حدیث نے اس مسئلہ میں میری رہنمائی کی ہے۔اور اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جب عمل کرتا ہے تو فرشتے اس کے اعمال کو لکھتے جاتے ہیں، سعادت کے اعمال بھی اور شقاوت کے اعمال بھی اور موت کے قریب ان کی میزان کی جاتی ہے اور پھر وہ مقادیر اللہ سبقت کرتی ہیں۔اگر وہ لوگوں کی نظر میں نیک تھا پر اللہ سے معالمہ صاف نہیں یا اللہ سے معاملہ صاف ہے مگر لوگوں کی نگاہ میں نہیں تو وہ کتاب باعث ہوتی ہے کہ اس کا خاتمہ اللہ کی رضایا سخط پر جیسی صورت ہو، ہو۔پس ہر روز اپنے اعمال کا محاسبہ چاہئے۔ایک صحابی نے ہماری سرکار صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا کہ جاہلیت میں میں نے کچھ صدقات کئے تھے۔کیا وہ بابرکات ہوں گے؟ ارشاد ہوا کہ أَسْلَمْتَ مَا اسْلَفْتَ یہ اسلام ان کی ہی برکت سے تجھے نصیب ہوا ہے۔موت علی الاسلام اس طرح نصیب ہو سکتی ہے کہ انسان ہر روز محاسبہ کرتا رہے اور اللہ تعالیٰ سے اپنا معاملہ صاف کرے۔اگر تعلقات صحیحہ نہ ہوں تو تو بہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ (البقره: ۱۳۳) تم تو موجود تھے۔تمہارے اسلاف گواہی دیتے ہیں کہ یعقوب نے آخر وقت کیا ارشاد کیا کس کی اطاعت کرو گے؟ انہوں نے کہا نَعْبُدُ الْهَكَ (البقره: ۱۳۴) ہم اللہ کے فرمانبردار ہوں گے جو تمہارا اور اسحاق اور ابراہیم کا معبود تھا اور وہ ایک ہی تھا۔وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (البقرہ:۱۳۳) ہم ہمیشہ اس کے فرمانبردار رہیں گے۔پس یہ حق وصیت کا ہے اور تمام و عظوں کا عطر اور اصل مقصد یہی ہے جو تمہارے سامنے پیش کیا ہے اور یہ وصیت ہے اس شخص کی جو ابو الانبیاء اور ابو الحنفاء ہے۔اور اسی کی وصیت کو میں نے تمہارے سامنے پیش کیا ہے۔پس تم اپنے کھانے پینے ، لباس، دوستی محبت رنج راحت عسر یسر ، افلاس، دولتمندی، صحت اور مرض ، مقدمات و صلح میں اس اصول کو مد نظر رکھو کہ اللہ کی فرمانبرداری سے کوئی قدم باہر نہ ہو۔پس یہ وصیت تمام وصیتوں کی ماں ہے۔اللہ تعالی تمہیں توفیق دے کہ ہر حال میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری مد نظر ہو۔اور یہ ہو نہیں سکتی جب اللہ تعالیٰ سے بغاوت ہو۔اور یہ بھی بغاوت ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک کو بڑا بناتا ہے اور اس کو برگزیدہ کرتا