خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 113 of 703

خطبات نور — Page 113

113 غرض سچا اور پکا مومن وہ ہوتا ہے جیسا کہ حضرت امام نے شرائط بیعت میں لکھا ہے کہ رنج میں، راحت میں، عسر میں یسر میں قدم آگے بڑھا وے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ان امور کا پیش آنا ضروری ہے تو ہر ایک حالت میں فرمانبردار انسان کو چاہئے کہ ترقی کرتار ہے اور دعاؤں کی طرف توجہ کرے تا کامیابی کی راہیں اسے مل جائیں۔اور یہ ساری باتیں ابراہیمی ملت کے اختیار کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ابراہیمی ملت کیا ہے؟ یہی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کہا اسلیم تو فرمانبردار ہو جا۔انہوں نے کچھ نہیں پوچھا یہی کہا أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (البقرة:۳۳) اسلام کسی دعوے کا نام نہیں۔بلکہ اسلام یہ ہے کہ اپنی اصلاح کر کے سچا نمونہ ہو۔صلح و آشتی سے کام لے۔فرمانبردار ہو۔سارے اعضا قلب ، زبان ، وارح اعمال و اموال انقیاد الہی میں لگ جائیں۔منہ سے مسلمان کہلا لینا آسان ہے۔شرک، حرص، طمع اور جھوٹ سے گریز نہیں۔زنا، چوری، غفلت کنبہ پروری اور ایذا رسانی سے دریغ نہیں۔پھر کہتا ہے میں فرمانبردار ہوں۔یہ دعویٰ غلط ہے۔کیسا عجیب زمانہ تھا جب یہ دعویٰ کہ نَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ (البقرة: (۱) نَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ (البقرة:۱۳۹) علی رؤس الاشہاد کئے جاتے تھے۔ایسے پاک مدعیوں کی طرح مومن بننا چاہئے جن کی تصدیق میں خدا نے بھی فرمایا کہ ہاں، سچ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے مخلص عابد ہیں۔مومن کو اسلیم کہنے کے ساتھ ہی أسْلَمْتُ کہنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔یہی نکتہ معرفت کا ہے جو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے اور اسی کے نہ سمجھنے کی وجہ سے فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ (المومن: (۸۴) کے مصداق ہو جاتے ہیں۔۔ت سے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم مدارج تحقیقات پر پہنچے ہوئے ہیں۔اس غلط خیال نے بہت بڑا نقصان کے بچایا ہے۔اسی سے مشرکوں نے استدلال کر لیا بَلْ نَتَّبِعُ مَا الْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا (البقرہ)۔غرض ایک راستباز کی شناخت کے لئے کبھی کوئی مشکل یہود یا نصاری یا منکرین امام پر نہ آتی اگر وہ سمجھتے کہ پاک رسول نے کیا دعوی کیا۔قُلْ مَا كُنْتُ بِدُعَا مِنَ الرُّسُل (الاحقاف (1) ان کو کہہ دو کہ میں نے کوئی نیا دعویٰ نہیں کیا۔نئے رسول کے لئے مشکلات ہوتی ہیں لیکن جس سے پہلے اور رسول اور نواب اور ملوک اور راست بازگزار چکے ہیں اس کو کوئی مشکلات نہیں ہوتیں۔جن ذرائع سے پہلے راستبازوں کو شناخت کیا ہے وہی ذریعے اس کی شناخت کے لئے کافی اور حجت ہیں۔تعلیم میں مقابلہ کرلے۔اس کا چال چلن دیکھ لے کہ پہلے راستبازوں جیسا ہے یا نہیں۔دشمن کو دیکھ لے کہ اسی رنگ کے ہیں یا نہیں۔آدمی کو ایک آسان راستہ