خطبات نور — Page 109
109 مطالعہ سے احادیث صحیحہ کے یاد رکھنے سے۔یہ باتیں ہیں علوم حقہ کے حاصل کرنے کی۔مجھے اس موقعہ پر یہ بھی کہنا ہے کہ بعض لوگ تم میں سے اپنی غلط فہمی سے احادیث کو طالمود کہتے ہیں۔یہ ان کی سخت غلطی ہے۔انہوں نے ہرگز ہرگز امام کے مطلب کو نہیں سمجھا۔کیا ان کو معلوم نہیں کہ حضرت امام اپنی عظیم الشان پیشگوئیاں احادیث سے لیتے ہیں اور اپنے دعاوی پر احادیث سے تمسک کرتے ہیں؟ آپ کا مطلب یہ ہے کہ جو حدیث قرآن شریف کے معارض ہو وہ قابل اعتبار نہیں۔کیونکہ یہ قاعدہ مسلم ہے کہ راج کا مقابلہ مرجوح سے نہیں کر سکتے۔اس کو آگے بڑھانا اور یہاں تک پہنچانا جہالت ہے۔اگر میری بات پر توجہ نہ ہو تو تم خود دریافت کر سکتے ہو۔احادیث سے انکار کرنا بڑی بد قسمتی ہے۔حضرت امام علیہ السلام نے بارہا فرمایا ہے کہ ہمارے لئے تین چیزیں ہیں۔قرآن سنت اور حدیث۔قرآن اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر سنایا تو سنت کے ذریعہ اس پر عمل کر کے دکھا دیا اور پھر حدیث نے اس تعامل کو محفوظ رکھا ہے۔غرض حدیث کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہئے جب تک وہ صریح قرآن شریف کے معارض اور مخالف واقع نہ ہوئی ہو۔بھلا دیکھو تو اسی نکاح کے متعلق غور کرو کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب آدمی نکاح کرتا ہے تو کیا کیا امور مد نظر رکھتا ہے۔گا ہے عورت بیا ہی جاتی ہے کہ وہ مالدار ہے اور گاہے یہ کہ حسین ہے یا کسی عالی خاندان کی ہے اور بعض اوقات مقابلہ مد نظر ہو تا ہے۔مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ عَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ (بخاري تاکہ تقویٰ بڑھے۔ایک سے زیادہ نکاح بھی اگر کرو تو اس لئے کہ كتاب النکاح باب اكفاء في الدين تقویٰ بڑھے۔جب تقویٰ مد نظر نہ ہو تو وہ نکاح مفید اور مبارک نہیں ہوتا۔غرض خدا تعالیٰ فرماتا ہے اور مومنوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے يُأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا (الاحزاب) انسان کی زبان بھی ایک عجیب چیز ہے جو گاہے مومن اور گاہے کافر بنا دیتی ہے۔معتبر بھی بنا دیتی ہے اور بے اعتبار بھی کر دیتی ہے اس لئے مولیٰ کریم فرماتا ہے کہ اپنے قول کو مضبوطی سے نکالو۔خصوصاً نکاحوں کے معاملہ میں اس کا فائدہ ہوتا ہے۔يُصْلِحْ لَكُمْ (الاحزاب:۷۲) تاکہ تمہارے سارے کام اصلاح پذیر ہو جاویں۔صد ہا لوگ ان معاملات نکاح میں تقویٰ اور خدا ترسی سے کام نہیں لیتے اور الہی حکم کی قدر و عظمت ان کو مد نظر نہیں ہوتی بلکہ وہ اس تراش خراش میں رہتے ہیں کہ یہ مقابلہ ہو یا شہوات کو مقدم کرتے ہیں۔لیکن جب تقویٰ ہو تو اعمال کی اصلاح کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہو جاتا ہے اور اگر نافرمانی ہو تو وہ معاف کر دیتا ہے۔