خطبات نور — Page 108
108 ہیں۔مگر میں یقینا کہتا ہوں کہ یہ بدی اور بد خیالی اللہ تعالیٰ پر سوء ظن سے پیدا ہوئی ہے کہ انسان کہلائے اور کہے کہ شریعت پر پابندی نہیں کر سکتے اور فرائض اور سنن ادا نہیں ہو سکتے۔یہ بڑی بد قسمتی ہے۔اسی ایک بدی نے قوم کو تباہ کر دیا اور اس نے شریعت کو نعوذ باللہ لعنت کہہ دیا۔یعنی عیسائیوں کی قوم نے شریعت کو بالکل الگ رکھ دیا۔یہ شیطانی وسوسہ تھا اور شیطان ان پر غالب آیا۔پس ایسی باتوں اور خیالوں سے پر ہیز کرو۔میں نے ایک ایسے ہی خطبہ میں (یعنی نکاح کے خطبہ میں جو اگلے روز مجھے پڑھنا پڑا اور اسی طرح پر صادق امام کے حضور میں پڑھا) اس امر پر زور دیا تھا اور یہ میرا ایمان ہے۔میرا دل چاہتا ہے کہ اسی طرح ہو اور میں خدا تعالیٰ کے فضل اور تائید سے ایسا کرنا چاہتا ہوں) کہ لوگ اپنے امام کی سچی اتباع کریں اور اس کے احکام کی تعمیل کو اپنی خواہشوں پر مقدم کرلیں۔بعض بد قسمتوں نے میری ان باتوں کو سن کر یہی نتیجہ نکالا کہ یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں۔ان پر عمل کرنا مشکل ہے۔میں کھول کر کہتا ہوں کہ یہ خطرناک بدظنی ہے جو ایک مومن کی نسبت کی جاوے۔اس کا محاسبہ اللہ تعالیٰ کے حضور دینا پڑے گا۔ہی پھر فرمایا۔خَلَقَكُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ (النساء) اللہ تعالیٰ نے تم کو ایک جی سے بنایا اور اسی جنس سے تمہاری بیوی بنائی اور پھر دونوں سے بہت مرد اور عورتیں پیدا کیں۔قرآن شریف سے عمدہ اور نیک اولاد کا پیدا ہونا اللہ تعالیٰ کی رضا کا منطوق معلوم ہوتا ہے۔ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو دیکھو کہ خدا نے اسے کیسا برومند کیا جس میں صدہا نبی اور رسول آئے ، حتی کہ خاتم الرسل بھی اسی میں ہوئے۔مگر یہ طیب اور مبارک اولاد کس طرح سے حاصل ہو ؟ اس کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ تقویٰ ہے۔تقویٰ کے حصول کا یہ ذریعہ ہے کہ انسان اپنے عقائد اور اعمال کا محاسبہ کرے اور اس امر کو ہمیشہ مد نظر رکھے۔إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا (النساء:۲) جب تم یہ یاد رکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے حال کا نگران ہے تو ہر قسم کی بے حیائی اور بدکاری کی راہ سے جو تقویٰ سے دور پھینک دیتی ہے، بچ سکو گے۔دیکھو کسی عظیم الشان انسان کے سامنے انسان بدی کے ارتکاب کا حوصلہ نہیں کر سکتا۔ہر ایک بدی کرنے والا اپنی اس بدی کو مخفی رکھنا چاہتا ہے۔پھر جب خدا تعالیٰ کو رقیب اور بصیر مانے گا اور اس پر سچا ایمان لائے گا تو ایسے ارتکاب سے بچ جائے گا۔غرض تقویٰ ایسی نعمت ہے کہ متقی ذریت طیبہ بھی پالیتا ہے۔پھر ارشاد ہوا ہے يُأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا (الاحزاب) یہ ایک دوسری آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ ایسے تعلقات اور عقد کے وقت یہ نصیحت فرماتا ہے۔تقویٰ اللہ اختیار کرو اور پکی باتیں کہو۔کی باتیں حاصل ہوتی ہیں کتاب اللہ کو غور کے ساتھ پڑھنے سے سفن اور تعامل کے