خطبات نور — Page 107
107 معلوم ہوتا ہے خود اس کے بھی وہم گمان میں نہیں ہوتا۔يَرزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ (الطلاق:)) پھر انسان بسا اوقات بہت قسم کی تنگیوں میں مبتلا ہوتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ متقی کو ہر تنگی سے نجات دیتا ہے جیسے فرمایا۔مَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا (الطلاق:٣) انسان کی سعادت اور نجات کا انحصار علوم الیہ پر ہے۔کیونکہ جب تک کتاب اللہ کا علم ہی نہ ہو وہ نیکی اور بدی اور احکام رب العالمین سے آگاہی اور اطلاع کیو نکر پا سکتا ہے۔مگر تقویٰ ایک ایسی کلید ہے کہ کتاب اللہ کے علوم کے دروازے اس سے کھلتے ہیں اور خود اللہ تعالیٰ متقی کا معلم ہو جاتا ہے۔وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ (البقرة:۳۸۳) انسان اپنے دشمنوں سے کس قدر حیران ہوتا اور ان سے گھبراتا ہے۔لیکن متقی کو کیا خوف؟ اس کے دشمن ہلاک ہو جاتے ہیں۔إِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا (الانفال:۳۰)۔اللہ تعالیٰ سے دوری اور بعد ساری نامرادیوں کی جڑ اور ناکامیوں کی اصل ہے۔مگر متقی کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ (النجل (۳)۔تقویٰ ایسی چیز ہے جو انسان کو اپنے مولی کا محبوب بناتی ہے إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (ال عمران : تقویٰ کے باعث اللہ تعالیٰ متقی کے لئے منتفی ہو جاتا ہے اور اس سے ولایت ملتی ہے وَالله وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ (الحانية :- پھر تقویٰ ایسی چیز ہے کہ دعاؤں کو قبولیت کے لائق بنا رہتا ہے إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائدة:۲۸) بلکہ اس کے ہر فعل میں قبولیت ہوتی ہے۔غرض تقویٰ جیسی چیز کی طرف توجہ دلائی ہے اور تقویٰ نام ہے اعتقادات صحیحہ ، اقوال صادقہ اعمال صالحہ علوم حقہ اخلاق فاضلہ ہمت بلند ، شجاعت، استقلال ، عفت، حلم، قناعت، صبر کا حسن ظن بالله ، تواضع، صادقوں کے ساتھ ہونے کا۔پھر یہ تقویٰ اپنے رب کا اختیار کرو۔"رَبَّكُمْ" میں بتایا ہے کہ وہ تمہیں کمالات بخشنے والا ہے۔ادتی حالت سے اعلیٰ حالت تک پہنچانے والا ہے۔اس کے متقی بنو۔مخلوق کی نظر کا متقی نہیں۔اگر انسان مخلوق کی نظر میں متقی بنتا ہے لیکن آسمان پر اس کا نام متقی نہیں تو یاد رکھو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا فتویٰ ہے مَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ (البقرة:1)۔ایک غلط خیال عام لوگوں میں پھیلا ہوا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اس کو بھی دور کروں اور وہ یہ ہے کہ لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ دین پر عمل درآمد کرنا انسان کی مقدرت سے باہر ہے اور یہ شریعت گویا کہنے کی ہے کرنے کی نہیں۔اس پر عمل نہیں ہو سکتا۔یہ بدی عام پھیلی ہوئی ہے اور اس نے بہت حصہ مخلوق کا تباہ کیا ہے۔در اصل اس قسم کے خیلے شریروں نے اپنی بدیوں کو چھپانے کے لئے تراشے ہوئے