خطبات نور — Page 106
106 ہرگز نہیں ہو سکتا۔ہمارا مقتدا اور امام وہی ہو سکتا ہے جو ”و لیکن میفزائے ہر مصطفے " پر عمل کرنے کی ہدایت کرتا ہو اور غلام احمد ہو۔غرض ہر ایک نیکی نیکی تب ہی ہو سکتی ہے جب وہ اولیٰ اللہ تعالی ہی کے لئے ہو اور پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے نیچے ہو۔يُأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ (النساء:۲)۔یہ ایک آیت شریف ہے جس سے ایک سورۃ کا ابتداء ہوتا ہے اور ایسے خطبوں کے وقت اس کا پڑھا جانا مسلمانوں میں مروج ہے۔وہ اس آیت کو ضرور پڑھتے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ ساری سورۃ کی طرف گویا متوجہ کیا گیا ہے جس میں میاں بیوی کے متعلق حقوق کو بیان کیا گیا ہے اور تفاول کے طور پر اس کی ابتداء کو پڑھتے ہیں تاکہ سعادت مند لوگ ایسے تعلقات پیدا کرنے سے پہلے اور بعد ان امور پر نگاہ کر لیا کریں جو اس سورۃ میں بیان ہوئے ہیں۔وہ تعلق جو میاں بیوی میں پیدا ہوتا ہے بظاہر وہ ایک آن کی بات ہوتی ہے۔ایک شخص کہتا ہے کہ میں نے اپنی لڑکی دی اور دوسرا کہتا ہے کہ میں نے لی۔بظاہر یہ ایک سیکنڈ کی بات ہے۔مگر اس ایک بات سے ساری عمر کے لئے تعلقات کو وابستہ کیا جاتا ہے اور عظیم الشان ذمہ داریوں اور جواب دہیوں کا جوا میاں بیوی کی گردن پر رکھا جاتا ہے۔اس لئے اس سورۃ کو نايُّهَا النَّاسُ سے شروع کیا ہے۔کوئی اس میں مخصوص نہیں۔ساری مخلوق کو مخاطب کیا ہے۔مومن ، مقرب، مخلص، اصحاب الیمین، غرض کوئی ہو کسی کو الگ نہیں کیا بلکہ يايُّهَا النَّاسُ فرمایا۔الناس جو انس سے تعلق رکھتا ہے وہ انسان ہے۔انسان جب انس سے تعلق رکھتا ہے تو سارے انسوں کا سرچشمہ میاں بیوی کا تعلق اور نکاح کا انس ہے۔اس کے ساتھ اگر ایک اجنبی لڑکی پر فرائض کا بوجھ رکھا گیا ہے تو اجنبی لڑکے پر بھی اس کی ذمہ داریوں کا ایک بوجھ رکھا گیا ہے۔اس لئے اس تعلق میں ہاں نازک تعلق میں جو بہت سی نئی ذمہ داریوں اور فرائض کو پیدا کرتا ہے ، کامل انس کی ضرورت ہے جس کے بغیر اس بوجھ کا اٹھانا بہت ہی ناگوار اور تلخ ہو جاتا ہے۔لیکن جب وہ کامل انس ہو تو رحمت اور فضل انسان کے شامل حال ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔غرض اس تعلق کی ابتدا انس سے ہونی چاہئے تاکہ دو اجنبی وجود مُتَّحِدُ فِي الْإِرَادَتْ ہو جائیں۔اس لئے يايُّهَا النَّاسُ کہہ کر اس کو شروع فرمایا۔اور دوسرے یہ آیت يُأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ سے شروع ہوتی ہے۔یعنی لوگو! تقویٰ اختیار کرو۔تقویٰ عظیم الشان نعمت اور فضل ہے جسے ملے۔انسان اپنی ضروریات زندگی میں کیسا مضطرب اور بے قرار ہوتا ہے۔خصوصاً رزق کے معاملہ میں۔لیکن متقی ایسی جگہ سے رزق پاتا ہے کہ کسی کو تو کیا