خطبة اِلہامِیّة — Page 237
خطبة الهامية ۲۳۷ اردو ترجمہ ہے الفضل ،تقدّم ليظهر أنه نام احمد رکھا جو شرف میں برتری رکھتا جمع في نفسي كل شأن تا کہ ظاہر کرے کہ اس نے موہبت اور عطا کے النبيين على سبيل الموهبة طور پر میرے وجود میں نبیوں کی ہرشان اکٹھی کر والعطاء، فهذا هو الحق دی ہے۔پس یہ ہے وہ حق جس کے بارہ میں وہ الذي فيه يختلفون لا يعود باہم اختلاف کر رہے ہیں۔اس دنیا میں نہ آدم الله إلى الدنيا آدم، ولا نبینا واپس آئے گا نہ ہمارے نبی اکرم ﷺ اور نہ الأكرم، ولا عيسى المتوفى وفات یافتہ عیسی" جس پر تہمت لگائی گئی تھی۔اللہ المتهم۔سبحان الله و تعالی اس سے پاک اور بالا ہے جو وہ افترا کرتے ہیں۔عما يفترون أليس هذا کیا یہ زمانہ آخری زمانہ نہیں ہے۔تمہیں کیا ہو گیا الزمان آخر الأزمنة مالكم ہے کہ تم سوچتے نہیں۔کیا ہمارے نبی ﷺ کے لا تفكرون؟ أما اقتربت ظہور کے ذریعہ ساعت قریب نہیں آگئی اور اس کی الساعة بظهور نبينا وجاءت علامات ظاہر نہیں ہو گئیں۔پس تم کہاں بھاگو أشراطها فأين تفرون؟ ما لکم گے۔تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم خبروں کو ان کے تدعون الأخبار من مقر اوقات کے مقام سے پرے دھکیلتے ہو اور جانتے أوقاتها وتؤخرونها وأنتم بوجھتے ہوئے انہیں مؤخر کرتے ہو۔کیا تم حدیث تعلمون؟ أنسيتم حديث بُعِثْتُ اَنَا وَ السَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ (یعنی میں اور بُعِثْتُ أَنا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے ہیں ) بھول فما لكم لِم تكفرون؟ فامسحوا گئے ہو؟ تمہیں کیا ہوا ہے۔تم کیوں انکار کرتے السبابة وما لحقها، وتذكروا ہو؟ پس تم شہادت کی انگلی اور اس کے ساتھ والی وعد الله، وما يتذكر إلا انگلی کو چھو کر دیکھو اور اللہ کے وعدہ کو یاد کرو اور الذين يُنيبون۔وما جئت نصیحت صرف وہ لوگ پکڑتے ہیں جو جھکتے ہیں۔إلا في الألف السادس الذی میں اس چھٹے ہزار میں ہی آیا ہوں جو کہ آدم کی