خطبة اِلہامِیّة — Page 176
خطبه الهاميه ۱۷۶ اردو ترجمہ فوقه كمال، وهذا وعد من الله خدائے علیم کا وعدہ ہے۔پس مسجد حرام شر العلام۔فكان المسجد الحرام کے دور ہونے اور مکروہات سے محفوظ يُبشِّـر بـدفـع الشـر والحفظ من رہنے کا مژدہ دیتی ہے لیکن مسجد اقصیٰ کا المكروهات، وأما المسجد مفهوم اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے الأقصى فيشير مفهومه إلى که رنگ برنگ کے برکات اور خیرات تحصيل الخيرات وأنواع اور ترقیات عالیہ حاصل ہوں۔پس البركات والوصول إلى أعلى ہمارے دین کا امر دفع ضرر سے شروع ہوا الترقيات، فبُدِءَ أمر ديننا من دفع اور خیر کی تکمیل پر تمام ہوگا اور اس بیان الضير، ويتم على استکمال میں غور کرنے والوں کے لئے نشان الخير، وإن فيه آيات ہیں۔پھر اسریٰ کی آیت ایک عجیب نکتہ للمتدبرين۔ثم إن آية الإسراء رکھتی ہے کہ اس کا ذکر دوستوں کے لئے تدلّ على نكتة وجب ذكرها ضروری ہے تا علم اور یقین زیادہ ہو اور للأصدقاء ليزدادوا عِلمًا ويقينا، خوب ظاہر ہے کہ سب سے بہتر مال اور وإن خير الأموال العلم والیقین، دولت علم اور یقین ہے اور وہ یہ کہ اِسراء ۱۹۷) وهو أن الإسراء من حيث الزمان زمان اور مکان کی حیثیت سے دونوں كان واجبًا كوجوب الإسراء من طرح واجب اور لازم تھا۔اس جہت حيث المكان، ليتم سير نبينا سے کہ ہمارے نبی کا سیر زمان اور مکان زمانا ومكانا، وليكمل أمرُ کے رو سے تمام ہو اور معراج کا امر کامل معراج خاتم النبيين ولا شک ہو اور اس میں شک نہیں کہ نبی کریم کے۔أن أقصى الزمان للمعراج الزمانی زمانی معراج کے لئے انتہائی زمانہ مسیح هو زمان المسيح الموعود، وهو موعود کا زمانہ ہے۔اور وہ برکات کے زمان كمال البركات ويقبله کل کمال کا زمانہ ہے اور اس کو ہر ایک مومن