خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 177

خطبه الهاميه 122 ارد و ترجمه مؤمن من غير الجحود، ولا شک بغیر انکار کے قبول کر سکتا ہے اور اس میں أن مسجد المسيح الموعود هو شک نہیں کہ مسیح موعود کی مسجد ، مسجد حرام کی أقصى المساجد من حيث الزمان نسبت سے زمانہ کی حیثیت سے اقصیٰ من المسجد الحرام، وقد مُلِيَّ من كل جنب بركةً ونورًا كالبدر التام، ليكمل به دائرة الدين، فإن مساجد ہے اور یقیناً اس مسجد کا ہر ایک پہلو برکت اور نور سے پورے چاند کی طرح بھر گیا ہے تا کہ اس کے وسیلہ سے دین کا الإسلام بدء كالهلال من المسجد الحرام، ثم صار قمرًا تامًا عند دائرہ کامل ہو جائے کیونکہ اسلام ہلال بلوغه إلى المسجد الأقصى کی مانند مسجد حرام سے ظا ہے سے ظاہر ہوا پھر جب ولذالك ظهر المسيح في عِدة مسجد اقصیٰ تک پہنچا بدر کامل ہو گیا۔اسی البدر إشارة إلى هذا المقام۔ثم لئے مسیح موعود بدر کے شمار میں ظاہر ہوا هنا دليل آخر علی وجوب پھر دوسری دلیل اسراء زمانی کے وجوب الإسراء الزمــانــی مـن الأمر پر یہ ہے کہ حق تعالٰی اخَرِيْنَ مِنْهُمْ کے الرباني وهو أن الله تعالى قد قول میں اشارہ فرماتا ہے کہ مسیح موعود کی أشار في قوله وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ جماعت خدا کے نزدیک صحابہ میں کی لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ إِلَى أَنَّ ایک جماعت ہے۔اور اس نام رکھنے جماعة المسيح الموعود عند میں کچھ فرق نہیں اور یہ مرتبہ مسیح کی الله من الصحابة من غير فرق في جماعت کو ہرگز حاصل نہیں ہوتا جب تک التسمية، ولا يتحقق هذه المرتبة کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لهم من غير أن يكون النبي صلى الله عليه وسلم بينهم بقوته ١٩/ درمیان قدسی قوت اور اپنے روحانی 199 افاضہ کے ساتھ موجود نہ ہوں جیسا کہ القدسية والإفاضة الروحانية لے اور انہی میں سے دوسروں کی طرف بھی (اسے مبعوث کیا ہے) جوا بھی اُن سے نہیں ملے۔(الجمعة:۴)