خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 175

خطبه الهاميه ۱۷۵ ارد و ترجمه كالغافلين۔وإن في لفظ ہے اُن کے لئے جو فکر کرتے ہیں۔اور وہ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ولفظ یہ ہے کہ لفظ حرام ظاہر کرتا ہے کہ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الذى جُعِل من کافروں پر یہ بات حرام کی گئی تھی کہ نبی وصفه جملة بَارَكْنَا حَوْلَهُ إشارة كريم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دین لطيفة للمتفكرين، وهو أن لفظ کو فریب اور حیلوں سے ضرر پہنچا ئیں یا الحرام يدل على أن الكافرين شکاریوں کی طرح اس پر برس پڑیں اور قد حرم عليهم في زمن النبي خدا نے اپنے نبی کو اور اپنے دین اور عليه السلام أن يضروا الدين اپنے گھر کو حملہ آوروں کے حملہ سے اور بالمكائد أو يأتوه كالصائد بے دا دگروں کے بیداد سے بچائے رکھا وعصم الله نبيه ودينه وبيته من اور اس زمانہ میں دین کے دشمنوں کو جیسا صول الصَّائِلِين وجور الجائرين۔کہ چاہیے تھا جڑ سے نہیں اکھاڑا لیکن دین و ما استأصل الله في ذالك کو ان کے حملہ سے محفوظ رکھا اور حرام کر الزمن أعداء الدين حق الاستيصال، ولكن حفظ الدين من صولهم ۱۹۵ دیا کہ وہ لڑائی میں غالب رہیں۔پس دین کی تائید کا امر مسجد حرام سے یعنی وحرّم عليهم أن يغلبوا عند ں کے دفع کرنے سے شروع ہوا پھر القتال فبدء أمر تائيد الدين من المسجد الحرام أعنى مِن ذَبّ یہ امر مسجد اقصی پر تمام ہوگا یہ وہ مسجد ہے اللئام، ثم يتم هذا الأمر على جس میں دین کا نور اقصیٰ کے مقام تک المسجد الأقصى الذي يبلغ فيه پورے چاند کی طرح پہنچے گا۔اور ہر ایک نور الدين إلى أقصى المقام بركت جو ایسے کمال کے وقت میں جس كالبدر التام، ويلزمه كل بركة کے اوپر کوئی کمال نہ ہو تصور میں آوے (۱۹۶) يتوقع ويتصوَّر عند كمال ليس اس کے لازم حال ہوتی ہے اور یہ