خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 131

خطبه الهاميه ۱۳۱ ارد و ترجمه ركعة إلا لهذا الغرض أيها لازم کر نے سے خدا تعالیٰ کی غرض یہی کرنے العاقلون فلا تلقوا معاذيركم ہے۔اب بہانہ بناتے ہو اور خدا کی حجت تم پر وقد تمت حجة الله عليكم تمام ہوئی اور بھاگنے کی راہ تم پر بند ہوئی۔فأين تفرون؟ وما كفر یہودیوں نے مسیح کے ساتھ کفر اس گمان اليهود بالمسيح إلا لزعمهم کیا کہ اس نے ان کے عقیدوں کے خلاف کیا أنـــه خـالف عقيدتهم وما اور اس طرح سے نہیں آیا جیسا کہ اُن کو امید جاء كما كانوا يترقبون، و اور انتظار تھا۔اور اس گمان سے کہ وہ بنی لزعمهم أنه ليس من بني إسرائيل اسرائیل میں سے نہیں اور اس کی ماں نے وخانتُ أُمُّه فغضب الله خیانت کی ہے خدا ان پر غضبناک ہوا پس یہ عليهم فهلک القوم المفسدون مفسد قوم ہلاک ہو گئی اب اس فاتحہ کو جسے ہر فاذكروا الفاتحة التي تقرء ونها رکعت میں پڑھتے ہو یا د کرو اور کوئی نماز فاتحہ في كل ركعة وليست الصلاة إلا بالفاتحة، فاحملوا ما حملتم کے بغیر درست نہیں ہوتی۔پس اب اپنی پیٹھ پر اٹھاؤ جو خدا نے تم پر فاتحہ میں ڈالا اور ان کی فيها ولا تكونوا كالذين طرح نہ ہو جاؤ جو کہتے ہیں اور نہیں کرتے اور يقولون ولا يفعلون و لا تقربوا الفاتحة وأنتم فاتحہ کے نزدیک مت جاؤ جب تم اسے نہیں لا تعرفونها، ولا تقربوها و پہچانتے اور ہرگز اس کے نزدیک نہ جاؤ جب تم أنتم لا تعتقدون أحسبتم قراءة کو اس پر اعتقاد نہیں۔کیا تم فاتحہ کا پڑھنا اور ہر الفاتحة وفي كل ركعة تلاوتھا رکعت میں اس کی تلاوت کرنے کو ایسا ہی گمان كعملكُمْ بِهَا، ساء ما تزعمون کرتے ہو جیسا کہ اس پر عمل کرتے ہو۔یہ تمہارا ولستم على شيءٍ منها وما آمنتم گمان بہت بُرا ہے۔حقیقت میں تم کو فاتحہ سے بحرف من حروفها حتى تؤمنوا کچھ تعلق نہیں اور اس کے ایک حرف پر بھی بالمسيح الذي بعث بينكم | ایمان نہیں لائے جب تک تم اس مسیح پر ایمان۔