خطبة اِلہامِیّة — Page 126
خطبه الهاميه ۱۲۶ ارد و ترجمه والمراد من قوله: أَنْعَمْتَ اور أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ سے وہ انبیا اور عَلَيْهِم هم النبيون والأخيار بنی اسرائیل کے آخری برگزیدے الآخرون من بني إسرائيل الذين صدقوا المسيح وما فَرّطوا في مراد ہیں جنہوں نے مسیح کی تصدیق کی اور اس کے بارے میں کو ئی کو تا ہی أمره وما أفرطوا بأقاويل، و کذالک المرادعیسی المسیح نہیں کی اور باتوں سے اس مسیح کے حق الذى خُتِمَتُ عليه تلک میں زیادتی نہیں کی اور اسی طرح ۱۲۴ السلسلة وانتقلت النبوة ، وسُدَّ مرا د لفظ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے عیسی مسیح ہے به مجرى الفيض كأنه العرمة، جس پر وہ سلسلہ ختم ہوا اور اس کے وكأنه لهذا الانتقال العلم وجود سے فیض کا چشمہ بند ہو گیا گویا کہ والعلامة أو الحشر والقيامة كما أنتم تعلمون۔وكذالك المراد من أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ في اس کا وجود اس انتقال کے لئے ایک نشانی یا حشر اور قیامت تھا اور اسی طرح انعمت علیہم سے مراد اس امت کے هذه الآية هو سلسلة أبدال هذه الأمة الذين صدقوا مسيح آخر ابدالوں کا سلسلہ مراد ہے جنہوں نے مسیح الزمان، وآمنوا به وقبلوه بصدق آخر الزمان کی تصدیق کی اور صدق الطوية والجنان۔۔أعنى المسيح دل سے اس کو قبول کیا یعنی اس مسیح الذي خُتِمَتُ عليه هذه السلسلة، کو جس پر یہ سلسلہ ختم ہوا اور أَنْعَمْتَ وهو المقصود الأعظم من قوله عَلَيْهِمُ سے وہی مقصود اعظم ہے کیونکہ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ كما تقتضى المقابلة مقابلہ اسی کا مقتضی ہے اور تدبر کرنے ولا ينكره المتدبّرون۔فإنّه إِذا عُلِمَ والے اس کا انکار نہیں کر سکتے۔(۱۲۵) بالقطع واليقين والتصريح والتعيين