خطبة اِلہامِیّة — Page 96
خطبه الهاميه ۹۶ الباب الثالث ارد و ترجمه يا قوم ما هذه التماثيل التي انتم اے قوم! یہ کیسے بت ہیں کہ جن پر اعتکاف لها عاكفون اتترکون کلام اللہ کئے بیٹھے ہو۔کیا خدا کے کلام کو ترک کرتے ہو لا قوال لا تعرفونها أُتِ لكم ولما ان باتوں کے عوض میں کہ ان کی حقیقت کی ۷۸ تنحتون۔وما تحققت عند كم شناخت نہیں کرتے۔تم پر اور تمہاری خود تراشیدہ تلک الاقوال ولا قائلها وان انتم باتوں پر افسوس۔وہ قول اور ان کے قائل الا تظنون۔أتؤثرون الظنّ على تمہارے نزدیک ثابت نہیں ہیں اور تم وہم کی اليقين والظنّ لا یغنی من الحق پیروی کرتے ہو۔کیا گمان کو یقین پر اختیار کرتے شيئًا ولا انتم به تبرء ون۔وقد ہو حالانکہ گمان حق سے مستغنی نہیں کرتا اور تم اس وعد الله انه يستخلف من کے سبب سے بری نہیں ہو سکتے اور خدا نے بہ هذه الامة أَفَانْتُمْ له منكرون تحقيق وعدہ فرمایا ہے کہ اسی امت میں سے خلیفہ وما وعد انه ينزل مسیحکم من مقرر ہوں گے۔کیا تم انکار کرتے ہو اور ہرگز السماء وإن وعد فاخرجوه لنا وعدہ نہیں کیا ہے کہ تمہارا مسیح آسمان سے نازل من القرآن ان كنتم تصدقون ہووے اور اگر وعدہ کیا ہے ہمیں بھی قرآن سے وقد ثبت من وعده ان خاتم دکھلاؤ اگر تم سچے ہو اور خدا کا وعدہ سچا ہو چکا ہے الخلفاء منا أفانتم فيه تشكون۔که خاتم الخلفاء ہم میں سے ہوگا کیا تم اس میں فأي نزاع بقى بعده مالکم شک رکھتے ہو پھر کونسی لڑائی بعد اس کے باقی رہ لا تفكرون لا ترفعوا اصواتكم فوق گئی تمہیں کیا ہو گیا کہ ڈرتے نہیں۔اپنی آوازوں كتاب الله وان القرآن قدحکم کو قرآن پر بلند نہ کر وقرآن نے فیصلہ کر دیا ہے في الذي كنتم فيه تختلفون الا جس میں کہ تم اختلاف کرتے تھے کیا تم قرآن ترضون بما قضى القرآن والله کے فیصلہ پر راضی نہیں ہوتے اور خدا زیادہ