دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 86 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 86

86 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری نوائے وقت نے اسی واقعہ کی رپورٹ کرتے ہوئے لکھا کہ حملہ کرنے والے قادیانیوں کی تعداد پانچ ہزار تھی۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رپورٹنگ حقائق پر بنیادرکھنے کی بجائے اندازوں اور مبالغوں کی بنا پر کی جارہی تھی۔(6) اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایس پی اور ڈی آئی جی پولیس ربوہ پہنچ گئے (8,7)۔اسی رات ربوہ میں پولیس نے گرفتاریاں شروع کر دیں اور ستر سے زائد احباب کو گرفتار کیا گیا۔کئی ایسے نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا جو اس واقعہ میں ملوث تھے لیکن کئی اور ایسے راہ چلتے احباب کو بھی گرفتار کر لیا گیا جن کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔مقصد صرف گنتی کو پورا کرنا تھا۔ایک مرحلہ پر پولیس والے تعلیم الاسلام کالج پہنچ گئے اور پر نسپل صاحب سے کہا کہ ہمیں یہاں حکومت کی طرف سے سو ڈیڑھ سولڑ کا گر فتار کرنے کا حکم ہے۔پرنسپل صاحب نے کہا کہ جس وقت یہ واقعہ ہوا کالج کے جو طلبا کالج میں موجود تھے ، وہ بے قصور ہیں انہیں کس جرم کی بنا پر آپ کے حوالے کیا جائے لیکن وہ مصر رہے اور کالج کے لڑکوں کو ہر اساں کیا گیا ہاسٹل کا گھیراؤ کر لیا گیا لیکن پھر کالج سے وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کا ارادہ ترک کر دیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث سٹیشن کے واقعہ کے وقت ربوہ سے باہر اپنے فارم نصرت آباد تشریف لے گئے تھے ، آپ اسی روز واپس ربوہ تشریف لے آئے۔یہاں ایک اور بات کا ذکر بے جانہ ہو گا۔ہم سے انٹرویو میں صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب نے کہا کہ میں نے کابینہ کے سامنے حنیف رامے سے پوچھا کہ واپسی پر نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کی ہو گی دوسرے راستے سے بھی آسکتی تھی۔پھر انہوں نے کہا کہ بھٹو صاحب نے کہا کہ مجھے اب تک پتا نہیں چلا کہ رامے کس کے ساتھ ہے۔بعد میں رسالہ چٹان کے ایڈیٹر شورش کا شمیری صاحب نے تحقیقاتی ٹریبونل کے روبرو بیان دیا کہ جب 29 / مئی کو ربوہ کے سٹیشن پر واقعہ ہوا ہے اس رات وزیر اعظم بھٹو کے سیکریٹری مسٹر افضل سعید نے فون کیا کہ بعض بیرونی طاقتیں پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر نا چاہتی ہیں ہم سب کو چاہئے کہ ہم داخلی امن بر قرار رکھیں اور اس کے ساتھ شورش کا شمیری صاحب نے یہ الزام بھی لگایا کہ قادیانی وزیر اعظم کو قتل کرنے کی سازش کرتے رہے ہیں اور ان کا ارادہ ہے کہ وہ فسادات سے فائدہ اُٹھا کر ملک میں اپنا اقتدار قائم کر لیں۔امروز یکم اگست 1974 ء ص اوّل و آخر ) شروع ہی سے اس بات کے آثار ظاہر ہو گئے تھے کہ ملک گیر فسادات شروع کئے جارہے ہیں اور جس فتنہ کی تمہید کچھ سالوں سے باندھی جارہی تھی اس کی آگ کو منظم طور پر اور حکومت کی آشیر باد کے ساتھ بھڑ کا یا جا رہا ہے۔حضور نے چند احباب کو پرائیویٹ سیکریٹری کے دفتر میں طلب فرمایا اور حضور کی نگرانی میں ایک سیل نے مرکز میں کام شروع کر دیا۔ہر