دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 87 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 87

87 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری طرف سے فسادات کی اور احمدیوں پر ان کے گھروں، مساجد اور دوکانوں پر حملہ کی خبریں آرہی تھیں۔جو اطلاع ملتی پہلے حضور اقدس اسے خود ملاحظہ فرماتے اور پھر قصر خلافت میں ایک گروپ جو مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کی زیر نگرانی کام کر رہا تھا، وہ اس اطلاع کے مطابق متاثرہ احمدی دوستوں کی مدد کے لئے اقدامات اُٹھاتا اور ان کی خیریت معلوم کرنے کے لیے رضاکار روانہ کیے جاتے۔اس کام کے لیے ضلع سرگودھا سے تعلق رکھنے والے رضا کار خدمات سر انجام دے رہے تھے۔اس دور میں شہر سے باہر فون ملانا بھی ایک نہایت مشکل امر تھا۔پہلے کال بک کرائی جاتی اور پھر گھنٹوں اس کے ملنے یا نہ ملنے کا انتظار کرنا پڑتا اور اس سے بڑھ کر مسئلہ یہ تھا کہ مرکز سلسلہ کی تمام فون کالیں ریکارڈ کر کے ان کے ریکارڈ کو حکومت کے حوالے کیا جارہا تھا۔اس لیے جماعتوں سے رابطہ کی یہی صورت تھی کہ ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے آدمی بھجوائے جائیں۔مرکز میں کام کرنے والا یہ سیل اس بات کا اہتمام کر رہا تھا کہ ہر واقعہ کی اطلاع وزیر اعظم اور دیگر حکومتی عہدے داروں کو با قاعدگی سے دی جائے۔اس سیل میں مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب، مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ ناظر امور عامه ، مکرم صاحبزادہ مر زاخورشید احمد صاحب اور مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب کام کر رہے تھے۔جب ان فسادات کا آغاز ہوا تو کام کا دباؤ اتنا تھا کہ حضور اقدس اور ان کے ساتھ کام کرنے والے رفقاء کو کچھ راتیں چند لمحے بھی سونے کا وقت نہیں مل سکا اور کچھ روز مسلسل جاگ کر کام کرنا پڑا۔بیرونِ پاکستان کی جماعتوں کو بھی حالات سے مطلع رکھنا ضروری تھا اور یہ بھی ضروری تھا کہ احمدیوں پر ہونے والے مظالم سے عالمی پریس اندھیرے میں نہ رہے۔حکومت پاکستان اور جماعت کے مخالف حلقوں کی یہ بھر پور کوشش تھی کہ پوری دنیا کو اندھیرے میں رکھا جائے۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے لندن مشن کے سپر دیہ کام کیا کہ وہ پوری دنیا کی جماعتوں کو پاکستان میں ہونے والے واقعات سے باخبر رکھے۔چنانچہ فسادات کے دوران ہفتہ میں دو مر تبہ پاکستان سے لندن اطلاعات بھجوائی جاتی تھیں۔لندن سے تمام جماعتوں کو حالات سے مطلع رکھا جاتا۔حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب نے لندن میں ایک پریس کا نفرنس بلوائی۔اس پر یس کا نفرنس میں عالمی پریس کے نمائندے شریک ہوئے۔اس طرح حقیقتِ حال عالمی پر میں تک پہنچ گئی۔یہ بات پاکستان کے سفارت خانہ کو سیخ پا کرنے کے لئے کافی تھی۔پاکستان کے سفارت خانہ کے ایک افسر نے لندن مشن کے انچارج کو ملاقات کے لیے بلایا اور اس بات پر بہت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ سلسلہ فوراً بند ہونا چاہئے۔انہیں جواب دیا گیا کہ پاکستان میں احمدیوں پر مظالم کا سلسلہ بند کر دیا جائے تو یہ سلسلہ بھی بند کر دیا جائے گا۔(9)