دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 585 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 585

585 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری لاہور ہائی کورٹ کے ان ریمارکس نے بھٹو صاحب کو اتنا شدید صدمہ پہنچایا تھا کہ سلمان تاثیر صاحب جو بعد میں گورنر پنجاب بھی بنے اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اس مرحلہ پر ان کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی۔(15) کہا کہ وو بھٹو صاحب نے اس بات پر کہ انہیں کورٹ نے نام کا مسلمان کہا ہے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے یہ اصلی صورتِ حال ہے جب آپ مجھ پر الزام لگاتے ہیں تو مجھے ذلیل نہیں کرتے بلکہ آپ پاکستان کے عوام کو ذلیل کرتے ہیں۔جب مجھے نام کا مسلمان کہا جاتا ہے تو دراصل ان عوام کو یہ الزام دیا جاتا ہے کہ وہ اچھے مسلمان نہیں بلکہ نام کے مسلمان ہیں۔۔۔۔مائی لارڈ! آپ میری جگہ نہیں کھڑے ہیں آپ نہیں جانتے ان ریمارکس نے مجھے کتنا دکھ پہنچایا ہے۔اس کے مقابلے میں تو میں پھانسی کو ترجیح دوں گا۔اس الزام کے بدلے میں پھانسی کے پھندے کو قبول کروں (16)"- بھٹو صاحب کا یہ بیان بہت سی وجوہات کی بنا پر بہت اہم ہے۔ان کے دلائل واقعی وزنی ہیں۔یہ دلائل اتنے زوردار تھے اور انہیں اس خوبصورتی سے پیش کیا گیا تھا کہ پاکستان کی عدالتِ عظمی کے ایک معزز جج جسٹس صفدر شاہ نے ان دلائل کے درمیان ہی کہہ دیا کہ ہم فی الوقت آپ کو اپنی یہ رائے بتا سکتے ہیں کہ ہمارے نزدیک لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے یہ پیراگراف غیر متعلقہ ہیں۔(17) لیکن یہ ایک قانونی مسئلہ ہے۔یہ ایک مذہبی مسئلہ ہے۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے تار ماضی قریب اور ماضی بعید کے بہت سے تاریخی واقعات کے ساتھ الجھے ہوئے ہیں۔اور اس کتاب کے پڑھنے والے کو شاید محسوس ہو رہا ہو کہ اس جیسے دلائل کا تذکرہ چند سال پہلے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے گزر چکا ہے لیکن اس وقت یہ دلائل کسی اور طرف سے پیش کئے جا رہے تھے اور اب جو ملزم بن کے کھڑے تھے اس وقت وہ اپنے زعم میں منصف بنے ہوئے تھے۔بھٹو صاحب ایک قد آور شخصیت تھے اور ایسی قد آور شخصیات کے اہم بیانات