دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 584
584 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ایک اسلامی ملک میں ایک کلمہ گو کے عجز کے لئے یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہو گا کہ وہ یہ ثابت کرے کہ وہ مسلمان ہے۔میرے خیال میں یہ اسلامی تمدن کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ ایک مسلم صدر ، ایک مسلم راہنما ایک وزیر اعظم جسے مسلمان قوم نے منتخب کیا ہو ، ایک دن وہ اپنے آپ کو اس حیثیت میں پائے کہ وہ یہ کہے کہ وہ مسلمان ہے۔یہ ایک ہراساں کر دینے والا ہی مسئلہ نہیں ہے۔بلکہ ایک کربناک معاملہ بھی ہے۔یورلارڈ شپس! یہ مسئلہ کیسے کھڑا ہوا؟ آخر کس طرح ؟ یہ مسئلہ اصطلاحاً عوام کے انقلاب یا کسی تحریک کے نتیجے میں کھڑا نہیں کیا گیا جو اس کے خلاف چلائی گئی ہو کہ وہ شخص مسلمان نہیں ہے۔یہ ایک آئیوری ٹاور سے آیا ہے۔اسے بطور ایک رائے کے ایک فرد نے دیا ہے۔اب یہ دوسری بات ہے کہ وہ خود خواہ کتنے ہی اعلیٰ عہدے پر کیوں نہ ہو لیکن دراصل اسے اس معاملے میں دخل دینے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔جو امور اس کی سماعت کے دائرے میں آتے ہیں ان میں یہ معاملہ قطعی طور پر شامل نہیں۔نہ ہی یہ ایسا موضوع ہے کہ جس پر وہ اپنا موقف بیان کر سکے۔کسی فرد، کسی ادارے اور کسی عدالتی بینچ کا یہ حق نہیں بنتا کہ وہ ایک ایسے معاملے پر اپنی رائے دے۔جس پر رائے دینے کا اسے کوئی جائز حق حاصل نہیں۔چونکہ انسان اور خدا کے درمیان کوئی بیچ کا واسطہ نہیں ہے۔اس لئے یہاں معاشرے میں غلطیاں ہوتی ہیں۔سماج میں سماجی برائیاں جنم لیتی ہیں۔اور ان کی سزا اسی دنیا میں ہی دی جاتی ہے۔جیسے چوری غنڈہ گردی زنا وغیرہ۔لیکن خدا کے خلاف بھی انسان جرم کرتے ہیں۔جن کا اسلام میں ذکر موجود ہے لیکن ان گناہوں کا تصفیہ اللہ اور انسان کا معاملہ ہے اور اس کا فیصلہ خدا خود روزِ حشر کرے گا۔۔۔مائی لارڈ! جیسا کہ میں اس سے پہلے کہہ چکا ہوں کہ ایک مسلمان کے لئے کافی ہے کہ وہ کلمے میں ایمان رکھتا ہو کلمہ پڑھتا ہو۔اس حد تک بات کی جا سکتی ہے کہ جب ابو سفیان مسلمان ہوئے اور انہوں نے کلمہ پڑھا تو رسول اللہ صلی ایام کے بعض صحابہ نے سوچا کہ اس کی اسلام دشمنی اتنی شدید تھی کہ شاید ابو سفیان نے اسلام کو محض اوپری اور زبانی سطح پر قبول کیا ہو لیکن رسول اللہ صلی الی تم نے اس سے اختلاف کیا اور فرمایا کہ جو نہی اس نے ایک بار کلمہ پڑھ لیا تو وہ مسلمان ہو گئے۔“(14)