دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 586 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 586

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 586 ہوا میں تم نہیں ہو جاتے۔تاریخ ان کا بار بار تجزیہ کرتی ہے۔بھٹو صاحب کا یہ بیان واقعی بہت اہم ہے۔ہم اس کے ایک ایک جملے کا تجزیہ کریں گے۔سة بھٹو صاحب نے اس وقت جب وہ اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہے تھے۔یہ کہا کہ ایک مسلمان کہلانے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ کلمہ پڑھتا ہو اور یہ بھی کہا کہ رسول اللہ صلی علیم نے کسی کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ اس کی نیت پر شک کرے۔تو سوال یہ اُٹھتا ہے کہ پھر 1974ء میں بھٹو صاحب اور ان کی حکومت نے یہ قدم کیوں اُٹھایا کہ ایک سیاسی اسمبلی کے سپرد یہ کام کیا کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ ایک جماعت ، ایک فرقہ مسلمان ہے یا نہیں۔اور یہ جماعت ایک کلمہ گو جماعت ہے۔اسمبلی کئی روز کھڑکیاں دروازے بند کر کے غیر متعلقہ کارروائی میں الجھی رہی اور اصل موضوع پر بات کا خاطر خواہ آغاز بھی نہیں کر سکی اور اگر ہر کلمہ گو قانون کی رو سے مسلمان ہے اور کسی کو اس نیت پر شک کرنے کا حق نہیں تو پھر 1974ء میں آئین میں ترمیم کر کے ایک سیاسی اسمبلی نے یہ فیصلہ کیوں کیا اب پاکستان میں قانون کی رو سے لاکھوں کلمہ گو مسلمان شمار نہیں ہوں گے۔ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے بڑا زور دے کر یہ بات کہی کہ کسی فرد کسی ادارے یا عدالتی بینچ کا یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی شخص کو کہے کہ وہ مسلمان نہیں ہے اور یہ بھی کہا اور بالکل درست کہا کہ مذہب خدا اور انسان کے درمیان معاملہ ہے۔کسی انسان کو اس میں دخل دینے کی اجازت نہیں ہے۔ہم کچھ دیر کے لئے 1974ء کی طرف واپس جاتے ہیں جب جماعت احمدیہ کی طرف سے قومی اسمبلی کے تمام اراکین کو اور حکومت کو ایک محضر نامہ بھجوایا گیا جس میں جماعت احمدیہ کا موقف بیان ہوا تھا کہ قومی اسمبلی کو نہ یہ اختیار ہے اور نہ اسے یہ زیب دیتا ہے کہ وہ کسی جماعت یا کسی شخص کے مذہب کے بارے میں یہ فیصلہ کرے۔لیکن جماعت احمدیہ کا یہ موقف نظر انداز کر دیا گیا۔آج آپ یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ کسی ادارے کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ کرے تو پھر 1974ء میں آپ کی حکومت کا وہ فیصلہ کسی طور پر صحیح نہیں کہلا سکتا۔لیکن بھٹو صاحب اپنے سابق عمل اور موجودہ بیان میں تضاد دیکھ نہیں پا رہے تھے۔اسی نکتہ پر اپنا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے اپنی خدمات گنوائیں اور ان میں اسلام کی یہ خدمت بھی گنوائی کہ ان کے دور میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر نوے سالہ پرانا مسئلہ حل کیا گیا تھا۔