دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 583 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 583

583 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری پہلے روز بھٹو صاحب نے اپنے اس دفاع کا خلاصہ پیش کیا جو انہوں نے آئندہ آنے والے دنوں میں پیش کرنا تھا۔بولتے بولتے ان کا رنگ زرد ہو جاتا تھا اور ان کے ماتھے پر پسینہ آجاتا تھا۔انہوں نے اس بات کی شکایت کی کہ جیل میں ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا ہے۔یہ ذکر شروع کرنے سے پہلے انہوں نے کہا کہ ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے کہ میں موت کی کوٹھری میں بند ہوں جس کا رقبہ ۷*۱۰ فٹ ہے۔میں غیر ملکی افراد کے سامنے اس حقیقت کا ذکر نہیں کرنا چاہتا جو مجھ پر بیت چکی ہے۔میں اپنے جسم پر نشانات یا ایسی چیزیں لوگوں کے سامنے دکھانا پسند نہیں کروں گا۔کوٹ لکھپت جیل میں کئی روز ان کے ساتھ کی کو ٹھریوں میں پاگلوں کو رکھا گیا جن کی چیچنیں انہیں سونے نہیں دیتی تھیں۔راولپنڈی میں مجھے پریشان کرنے کے لئے یہ ترکیب نکالی گئی کہ کوٹھری کی چھت پر پتھر پھینکے جاتے تھے جن کا شور مجھے سونے نہیں دیتا تھا اور گزشتہ رات بھی مجھے سونے نہیں دیا گیا۔یہ مصائب بیان کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔پہلے روز کی کارروائی کے اختتام پر بھٹو صاحب نے کہا کہ اگلے روز وہ بات کا آغاز نام کے مسلمان کے مسئلہ سے کریں گے اور کہا کہ میں ان پیرا گرافس کا حوالہ دوں گا جو اس موضوع پر ٹرائل کورٹ نے اپنے فیصلے پر شامل کئے ہیں۔جو پیراگراف 209 سے 215 تک محیط ہیں۔دوسرے روز ان کے بیان میں پہلے دن سے زیادہ روانی تھی۔اس روز وہ خرابی صحت اور رنگت کے زرد ہو جانے کے باجود روانی سے اپنا بیان دے رہے تھے۔ایک مرحلہ پر ان کے وکیل نے ان کے کان میں کہا کہ اب انہیں رک جانا چاہئے تو انہوں نے کہا کہ میں تھکا ہوا ہوں لیکن مجھے اپنا بیان جاری رکھنا ہے۔اس دن انہوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے اس حصہ پر شدید تنقید کی ، جس میں انہیں نام کا مسلمان کہا گیا تھا۔فیصلہ کے اس حصہ نے انہیں اتنا شدید صدمہ پہنچایا تھا کہ انہیں زبانی یاد تھا۔جب اس دوران ان کے وکیل نے انہیں پیراگراف کا نمبر بتانا چاہا تو انہوں نے بے صبری سے کہا کہ میں ان پیراگرافوں کو جانتا ہوں۔انہوں نے اس بیان کے آغاز پر مذہب کی تاریخ پر روشنی ڈالنا چاہا لیکن چیف جسٹس صاحب نے کہا یہ سب کچھ بہت دلچسپ ہے لیکن آپ براہ راست متعلقہ موضوع پر آجائیں۔(13) انہوں نے اپنا بیان شروع کرتے ہوئے کہا:۔حصہ