دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 582 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 582

582 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کو غیر مسلم قرار دینے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں تو کوئی بات نہیں۔پھر کہنے لگے میں تو بڑا گناہ گار ہوں اور کیا معلوم میرا یہ عمل ہی میرے گناہوں کی تلافی کر جائے اور اللہ میرے تمام گناہ اس نیک عمل کی بدولت معاف کر دے۔“(20) اپیل کا آغاز 20 / مئی 1978ء کو ہوا۔پہلے دن کی معروضات کے اختتام پر بیٹی بختیار صاحب نے کہا کہ میری اپیل کی بنیاد یہ ہے کہ یہ مقدمہ جھوٹا ہے، گھڑا ہوا ہے اور سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے اور یہ بھٹو صاحب کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش ہے۔اور انہیں ایک منتخب وزیر اعظم ہوتے ہوئے اقتدار سے علیحدہ کر دیا گیا ہے تا کہ انہیں سیاسی طور پر اور جسمانی طور پر ختم کر دیا جائے۔ان کے اس آغاز نے عدالت میں ایک کھلبلی مچا دی۔ایک بار پھر بیرونی ہاتھ کا تذکرہ کیا جا رہا تھا۔اس کے ساتھ سپریم کورٹ میں ایک طویل کارروائی کا آغاز ہوا۔جس میں دونوں طرف سے دلائل کا تبادلہ ہوا۔ہم اس تمام تذکرے کو چھوڑ کر آخر میں ایک اہم حصہ کی طرف آتے ہیں۔یعنی جس روز بھٹو صاحب کے وکلاء نے ان کی طرف سے دلائل نہیں دیئے تھے بلکہ خود بھٹو صاحب نے سپریم کورٹ کے سامنے اپنی معروضات پیش کیں۔یہ اٹھارہ دسمبر 1978ء کا دن تھا۔جس کمرہ میں اس مقدمہ کی سماعت ہوئی تھی وہ آج کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔بھٹو صاحب جب کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو ان کے حامی احتراما کھڑے ہو گئے۔بھٹو صاحب ایک خوش لباس شخص تھے۔آج بھی وہ ایک نفیس سوٹ میں ملبوس تھے۔لیکن یہ سوٹ ان پر ڈھیلا لگ رہا تھا۔اسیری کے دنوں میں ان کی صحت بُری طرح متاثر ہوئی تھی اور ان کا وزن خطرناک حد تک گر چکا تھا۔پہلے کچھ دیر بیٹی بختیار صاحب نے اپنے دلائل کو مکمل کیا۔پھر بھٹو صاحب اپنی معروضات پیش کرنے کے لئے کھڑے ہوئے۔بھٹو صاحب قابل شخص تھے۔اس سے کوئی انکار نہیں۔وہ ایک نہایت عمدہ مقرر بھی تھے۔سپریم کورٹ میں ان کی تقریر جو ان کی آخری تقریر ثابت ہوئی پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔یہ تقریر چار روز جاری رہی۔سینکڑوں مصنفوں، قانون دانوں اور محققین نے اپنے طور پر اس کا جائزہ لیا ہے۔ہم بھی اس کے چند پہلوں کا جائزہ پیش کریں گے۔