دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 581
581 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری سپریم کورٹ میں اپیل جیسا کہ توقع تھی بھٹو صاحب نے اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل کی۔اب ان کے کیس کی پیروی کرنے والے وکلاء کی قیادت سابق اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار کر رہے تھے۔وہی بیٹی بختیار جنہوں نے قومی اسمبلی میں اٹارنی جنرل کی حیثیت سے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث” سے سوالات کئے تھے۔وہ آج بھٹو صاحب کی سزائے موت کے خلاف اپیل کے لئے سپریم کورٹ میں پیش ہو رہے تھے۔بیٹی بختیار صاحب کی اعانت وکلاء کی ایک ٹیم کر رہی تھی، جس میں ملک کے سابق وزیر قانون عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب بھی شامل تھے۔جب 1974ء کا واقعہ ہوا تو پیرزادہ صاحب اس سٹیرنگ کمیٹی کے سربراہ بھی بنے تھے جس نے قومی اسمبلی ا میں کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور ملک کے وزیر قانون کی حیثیت سے 1974ء کی آئینی ترمیم میں ان کا بہت کچھ عمل دخل تھا۔پہلے تو یہ امید تھی کہ فیصلہ چھ سات ہفتوں میں ہو جائے گا مگر پھر یہ کارروائی دس ماہ چلی۔اس دوران ضیاء صاحب کی مارشل لاء حکومت اپنے پاؤں مضبوطی سے گاڑتی گئی۔انتخابات کرانے کا منصوبہ کھٹائی میں ڈال دیا گیا۔16 مئی کو بھٹو صاحب کو کوٹ لکھپت جیل لاہور سے راولپنڈی جیل منتقل کیا گیا۔پھانسی کی سزا پانے تک بھٹو صاحب یہیں پر رہے۔کرنل رفیع صاحب یہاں پر ڈیوٹی پر تھے ،انہوں نے اپنی کتاب میں اس دور میں بھٹو صاحب کی گفتگو کا خلاصہ درج کیا ہے۔اس میں وہ لکھتے ہیں:۔احمدیہ مسئلہ : یہ ایک ایسا مسئلہ تھا جس پر بھٹو صاحب نے کئی دفعہ کچھ نہ کچھ کہا۔ایک دفعہ کہنے لگے رفیع ! یہ لوگ چاہتے تھے کہ ہم پاکستان میں ان کو وہ رتبہ دیں جو یہودیوں وہ رتبہ دیں جو یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہے یعنی ہماری ہر پالیسی ان کی مرضی کے مطابق چلے۔ایک بار انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی نے ان کو غیر مسلم قرار دیا ہے اس میں میرا کیا قصور ہے۔ایک دن اچانک مجھ سے پوچھا کہ کرنل رفیع کیا احمدی آجکل یہ کہہ رہے ہیں کہ میری موجودہ ان کے خلیفہ کی بد دعا کا نتیجہ ہیں کہ میں کال کوٹھری میں پڑا ہوا ہوں۔ایک مرتبہ کہنے لگے کہ بھئی اگر ان کے اعتقاد کو دیکھا جائے تو وہ تو حضرت محمد مصطفے صلی ال یکم کو آخری نبی ہی نہیں مانتے اور اگر وہ مجھے ہی اپنے آپ مصیبتیں