دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 482
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 482 اپنے مخالف کی نسبت موت وغیرہ کسی دل آزار مضمون کی پیشگوئی نہ کرے۔کوئی کسی کو کافر اور دجال اور مفتری نہ کہے۔بد گوئیوں اور گالیوں سے مجتنب رہیں۔اس اعتراض کے جواب میں حضرت خلیفة المسیح الثالث نے فرمایا کہ اس واقعہ سے بہت پہلے 1886ء میں ی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اس طریق کا اعلان فرما چکے تھے کہ وہ کسی کی موت کی پیشگوئی اس وقت تک شائع نہیں فرماتے تھے جب تک اُس شخص کی طرف سے اس بابت اصرار نہ ہو اور اس کے ثبوت کے طور پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " نے 20 / فروری 1886ء کے اشتہار کی عبارت پیش فرمائی اور اگر آپ نے عدالت میں اس تحریر پر دستخط فرمائے تو یہ آپ کے طریق کے مطابق ہی تھا۔پھر اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض پیشگوئیوں کے متعلق کچھ سوالات اٹھائے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث" نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو دعوت مباہلہ اور عبد اللہ آتھم اور محمدی بیگم کی پیشگوئیوں کے متعلق تفاصیل بیان فرمائیں۔مولوی ثناء اللہ کے متعلق حضرت خلیفة المسیح الثالث" نے فرمایا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُس کے متعلق اشتہار شائع فرمایا تو اُس نے بجائے اس کو قبول کرنے کے اس طریقہ کار کو منظور کرنے سے انکار کر دیا۔ہم یہاں مولوی ثناء اللہ کی اس تحریر کے کچھ حوالے پیش کرتے ہیں جو کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہار کے جواب میں تحریر کی تھی اس کا ایک حصہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں بھی پڑھ کر سنایا تھا۔مولوی صاحب لکھتے ہیں۔” (اول) یہ کہ اس دعا کی منظوری مجھ سے نہیں لی۔اور بغیر میری منظوری کے اس کو شائع کیا۔“