دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 483
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری پھر لکھتے ہیں:۔483 ”یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اس کو منظور کر سکتا ہے۔اپنے اس مضمون کا اختتام مولوی صاحب ان الفاظ پر کرتے 66 "مرزائیو تمہارا گرو اور تم کہا کرتے ہو کہ مرزا صاحب منہاج نبوت پر آئے ہیں۔کسی نبی نے بھی اس طرح اپنے مخالفوں کو فیصلہ کرنے کی طرف بلایا ہے ؟ بتلاؤ تو انعام لو ورنہ منہاج نبوت کا نام لیتے ہوئے شرم کرو۔شیم شرمه شیم" اہلحدیث 26 اپریل 1907ص5,6) ان حوالوں سے صاف ثابت ہو جاتا تھا کہ مولوی صاحب نے خود ہی گریز کر کے اپنی جان بچائی تھی اور دعا کی اس دعوت کو قبول نہیں کیا تھا۔سوالات کرنے والے بد ترین بوکھلاہٹ کا شکار تھے۔جب مولوی ثناء اللہ صاحب کے یہ حوالے سامنے رکھے گئے تو کچھ دیر لایعنی بحث کرنے کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے سوال کیا تو کیا کیا؟ سوال یہ تھے اور پھر اس کے بعد یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مرزا صاحب کی وفات ہیضے سے ہوتی۔(شاید ہوئی تھی) کہنا چاہتے تھے۔ذرا تصور کریں سپیشل کمیٹی نے یہ طے کرنا تھا کہ جو شخص آنحضرت صلی الم کو آخری نبی نہیں مانتا اس کا اسلام میں Status کیا ہے۔اور آخری دن اصل موضوع پر آنے کی بجائے سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات کس بیماری سے ہوئی تھی؟ ہیضے سے ہوئی تھی یا کسی اور بیماری سے ہوئی تھی۔حضور کو