دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 481 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 481

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 481 کارروائی کا آخری دن کارروائی اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی اور اب تک اصل موضوع یعنی ختم نبوت پر سوالات شروع ہی نہیں ہوئے تھے۔شاید کسی ذہن میں یہ امید ہو کہ آخری دن تو موضوع پر بات ہو گی لیکن افسوس ایسا نہیں ہوا۔ممبرانِ اسمبلی آخری روز بھی یہ ہمت نہیں کر سکے کہ ادھر اُدھر کی باتوں کو چھوڑ کر اُس موضوع پر بحث کریں جس کا تعین خود انہوں نے کیا تھا۔پہلے حضرت خلیفة المسیح الثالث نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کچھ فارسی اشعار پڑھ کر ان کا مطلب بیان فرمایا۔ان اشعار پر پہلے اعتراض کیا گیا تھا۔اس کے بعد حضور نے اس اعتراض کا جواب شروع فرمایا جو اس بات پر کیا گیا تھا کہ فروری 1899 ء کو جب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی عدالت میں مقدمہ چل رہا تھا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عدالت کے کہنے پر ایک نوٹس پر دستخط فرمائے کہ آئندہ سے میں کسی کی موت کی پیشگوئی شائع نہیں کروں گا اور یہ ایک نبی کی شان کے مطابق نہیں ہے۔اس واقعہ کا پس منظر یہ تھا کہ انگریز حکومت کے ایک پولیس افسر نے ڈپٹی کمشنر گورداسپور کو لکھا کہ ایک گزشتہ مقدمہ میں مرزا غلام احمد کو سابق ڈپٹی کمشنر ڈگلس صاحب نے یہ کہا تھا کہ وہ آئندہ سے ایسی پیشگوئیاں شائع نہ کریں جس سے نقض امن کا اندیشہ ہو لیکن اب انہوں نے اس کی خلاف ورزی شروع کر دی ہے۔اور اس کی تائید میں مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے بھی ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی کہ مجھے خطرہ ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار مجھے نقصان پہنچائیں گے۔اور آخر میں عدالت نے مولوی محمد حسین بٹالوی کی اشتعال انگیز تحریروں کو بھی دیکھا۔اور مقدمہ کے آخر میں محمد حسین بٹالوی صاحب کو فہمائش کی گئی کہ وہ آئندہ تکفیر اور بد زبانی سے باز رہیں۔مقدمہ کے آخر میں عدالت نے فریقین سے ایک تحریر پر دستخط کرائے کہ آئندہ کوئی فریق