دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 480
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 480 کسی اور۔۔۔“ اور پھر انہوں نے حوالے کی عبارت ادھوری چھوڑ دی۔پہلے ایڈیشن میں یا روحانی خزائن کے ایڈیشن میں مذکورہ صفحہ پر یہ الفاظ یا معنوی طور پر یہ عبارت درج نہیں ہے۔اب اٹارنی جنرل صاحب کو اس بات کا قرار کرنا پڑ رہا تھا کہ انٹ شنٹ حوالوں کی بنیاد پر سوالات کا سلسلہ بند کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا:۔"I will be rerquesting the members, after this to give up۔Now most of them have been asked one way or other۔اب سپیکر صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔انہوں نے بھی کہا کہ میں اٹارنی جنرل صاحب سے درخواست کروں گا کہ وہ باقی حوالہ جات گواہ کو دے دیں تاکہ کل اس کا جواب آجائے۔چنانچہ چاروناچار انہوں نے حوالوں کی فہرست لکھوانی شروع کی۔ابھی حوالہ کی عبارت نہیں پڑھی جا رہی تھی۔صرف صفحات کے نمبر لکھوائے جا رہے تھے۔یہ بات قابل ملاحظہ ہے کہ اتنے روز کی بحث کے بعد جب کارروائی اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی تو سوالات کرنے والے قابل حضرات کے وکیل کو متعلقہ حوالے بھی نہیں مل رہے تھے۔اور بعض اوقات تو یہ تاثر ملنے لگتا تھا کہ شاید ان کے ذہن میں ہے کہ یہ بھی جماعت احمدیہ کے وفد کی ذمہ داری ہے کہ ان کے کام کے حوالے تلاش کر کے ان کی خدمت میں پیش کرے تا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی بسہولت اپنے اعتراضات کو پیش کر سکے۔