دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 403
403 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری خواجہ حسن نظامی صاحب نے بہادر شاہ ظفر کے مقدمہ کی روئیداد شائع کی تھی جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ اس وقت بہادر شاہ ظفر بھی جسے بادشاہ بنایا گیا تھا ، سپاہیوں کے ہاتھ میں ایک بے بس مہرے کی حیثیت رکھتا تھا۔خواجہ حسن نظامی نے اس جنگ کے متعلق لکھا ہے۔غدر ۱۸۵۷ء میں جس قسم کے ناجائز واقعات پیش آئے اسلام نے کہیں بھی ان کی اجازت نہیں دی۔تیرہ سو برس سے آج تک تاریخ ایک واقعہ بھی ایسا پیش نہیں کرتی کہ اسلام کی اجازت سے اس قسم کی کوئی حرکت کی گئی ہو جیسی غدر 57ء میں پیش آئی “ (91) اور خود اس جنگ کے دوران کئی مولوی صاحبان مسجد میں یہ بحث کرتے رہے تھے کہ یہ جنگ ہر گز جہاد نہیں ہے۔اور کچھ مغل شہزادے ایسے بھی تھے جو ان سپاہیوں کو جو انگریز عورتوں اور بچوں کو قتل کر رہے تھے یہ کہہ کر روکنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسلام میں بچوں اور عورتوں کو قتل کرنا منع ہے۔لیکن یہ لوگ ان کو بھی قتل کرنے پر آمادہ ہوئے تو ان منع کرنے والوں کو وہاں سے فرار ہونا پڑا۔(92) جماعت کے ایک اشد مخالف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ، جماعت کے ایک اور مخالف مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی کے متعلق تحریر کرتے ہیں:۔”مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی نے اصل معنی جہاد کے لحاظ سے بغاوت ۱۸۵۷ء کو شرعی جہاد نہیں سمجھا بلکہ اس کو بے ایمانی و عہد شکنی عناد خیال کر کے اس میں شمولیت اور اس کی معاونت کو معصیت قرار دیا۔“ (93) خود مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے 1857ء کی جنگ کے بارے میں کن خیالات کا اظہار کیا اس کا اندازہ ان کی اس تحریر سے ہو جاتا ہے جو کہ حضور نے سپیشل کمیٹی میں پڑھ کر سنائی۔