دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 402 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 402

402 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری گزشتہ اجلاسات میں یہ اعتراض بھی اُٹھایا گیا تھا کہ جماعت کے لٹریچر میں ان لوگوں کے لیے سخت الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جنہوں نے 1857ء میں ہندوستان میں انگریز حکومت کے خلاف بغاوت کی تھی۔یہ جنگ ان فوجیوں نے شروع کی تھی جو ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج میں تنخواہ دار ملازم تھے۔اور ۱۹۴۷ء میں آزادی کے بعد سے اس جنگ کو جنگ آزادی کا نام دے کر اس میں شریک سپاہیوں کو مجاہد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔قطع نظر اس بحث کے جماعت کے لٹریچر میں ان کے متعلق کیا لکھا ہے اور 1857ء کی جنگ کی حقیقت کیا تھی، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ اہم مسلمان لیڈر جو اس دور کے گواہ تھے اور اس دور کے مسلمانوں کا بُرا بھلا آج کے لوگوں کی نسبت زیادہ اچھی طرح سمجھتے تھے، وہ اس جنگ کے متعلق کیا خیالات رکھتے تھے۔کیا وہ سمجھتے تھے کہ اس جنگ میں شریک مسلمانوں کے ہمدرد تھے یا ان کے خیال میں اس جنگ میں شرکت کرنے والوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا تھا۔حضور نے ان خطوط پر جواب دیا اور اس دور کے مشہور مسلمان قائدین کے کچھ حوالہ جات سنائے۔ان میں سے کچھ پیش ہیں۔سرسید احمد خان صاحب اپنی کتاب اسباب بغاوتِ ہند میں تحریر کرتے ہیں:۔غور کرنا چاہیے کہ اس زمانہ میں جن لوگوں نے جہاد کا جھنڈا بلند کیا ایسے بد اطوار آدمی تھے کہ بجز شراب خوری اور تماش بینی اور ناچ اور رنگ دیکھنے کے کچھ وظیفہ ان کا نہ تھا۔بھلا یہ کیونکر پیشوا اور مقتدا جہاد کے گنے جا سکتے تھے۔اس ہنگامے میں کوئی بھی بات مذہب کے مطابق نہیں ہوئی۔سب جانتے ہیں کہ سرکاری خزانہ اور اسباب جو امانت تھا اس میں خیانت کرنا۔ملازمین کی نمک حرامی کرنی مذہب کی رو سے درست نہ تھی۔صریح ظاہر ہے کہ بے گناہوں کا قتل علی الخصوص عورتوں اور بچوں اور بڑھوں کا مذہب کے بموجب گناہِ عظیم پھر یہ بات بھی مفسدوں کی حرامزدگیوں میں سے ایک حرامزدگی تھی نہ واقعہ میں جہاد۔“ (90) تھا