دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 404
404 وو دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری عہد و امن والوں سے لڑنا ہر گز شرعی جہاد (ملکی ہو خواہ مذہبی نہیں ہو سکتا بلکہ عناد و فساد کہلاتا ہے۔مفسدہ 1857ء میں جو مسلمان شریک ہوئے تھے وہ سخت گنہگار اور بحکم قرآن و حدیث مفسد و باغی بد کردار تھے۔اکثر ان میں عوام کالانعام تھے بعض جو خواص و علماء کہلاتے تھے وہ بھی اصل علوم دین قرآن و حدیث سے بے بہرہ تھے یا نا فہم و بے سمجھ۔“ ) اشاعۃ السنہ نمبر 10 جلد 9ص 309) سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ جنگ اس لئے شروع کی گئی تھی کہ اب انگریزوں کی حکومت ختم کر دی گئی ہے اور بہادر شاہ ظفر کی حکومت قائم ہو گئی ہے ، خود ان بادشاہ سلامت کا اس جنگ کے شرکاء اور اس جنگ کے بارے میں کیا خیال تھا؟ اس کے بارے میں بہادر شاہ ظفر کے ایک درباری ظہیر دہلوی لکھتے ہیں کہ بہادر شاہ ظفر نے اپنے خاص درباریوں کو جمع کر کے کہا:۔” مجھے معلوم ہوا فلک غدار اور زمانہ نا ہنجار کو میرے گھر کی تباہی منظور ہے۔آج تک سلاطین چغتائی کا نام چلا آتا تھا اور اب آئندہ کو نام و نشان یک قلم معدوم و نابود ہو جائے گا۔یہ نمک حرام جو اپنے آقاؤں سے منحرف ہو کر یہاں آکر پناہ پذیر ہوئے ہیں کوئی دن میں ہوا ہوئے جاتے ہیں۔جب یہ اپنے خاوندوں کے کہ نہ ہوئے تو میرا ساتھ کیا دیں گے۔یہ بدمعاش میرا گھر بگاڑنے آئے تھے بگاڑ چلے۔۔۔داستان غدر مصنفہ ظہیر دہلوی ناشر سنگ میل ص 81) اور یہ جنگ شروع کرنے والے لوگ کون تھے۔یہ وہی تھے جو اب تک اپنے ہم وطنوں پر اور ہم مذہب لوگوں پر گولیاں چلا کر انگریزوں کی حکومت ہندوستان میں قائم کر رہے تھے اور خود برملا اعتراف کر رہے تھے کہ ہم وہ ہیں جنہوں نے اپنی گردنیں کٹا کر انگریزوں کی حکومت ہندوستان میں قائم کی ہے اور جنگ شروع