دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 401
401 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اس کے بعد انہوں نے جو کچھ فرمایا وہ انہی کا ہی حصہ ہے۔اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ 1949ء میں تو پاکستان بن چکا تھا اور کسی کی ہمت نہیں تھی کہ وہ آنحضرت مصلی یلم کی شان میں کسی قسم کی کوئی گستاخی کرتا۔گویا اٹارنی جنرل صاحب کو یہ علم ہی نہیں تھا کہ پاکستان سے باہر بھی ایک دنیا آباد ہے اور اس حوالے میں تو کہیں ذکر ہی نہیں تھا کہ یہ صرف پاکستان کی بات ہو رہی ہے۔اس میں تو ان صدیوں کی مخالفت کا ذکر ہے جب کہ پاکستان وجود میں ہی نہیں آیا تھا۔ہم نے اٹارنی جنرل صاحب کے خیالات درج کر دیئے ہیں۔آج کے دور میں تو انٹر نیٹ کی سہولت موجود ہے۔ہر پڑھنے والا خود جائزہ لے سکتا ہے کہ آج تک اسلام اور آنحضرت سلام کے دشمن ، تمام اخلاقی معیاروں کو بالائے طاق رکھ کر آنحضرت علی الم کی ذات اقدس پر کتنے غلیظ حملے کر رہے ہیں۔کتنی ہی گندی کتابیں تحریر کی گئیں اور یہ عمل صدیوں سے مسلسل جاری ہے اور صرف 1949ء کا ہی سوال نہیں کوئی سال ایسا نہیں گزرا جس میں یہ زہریلے وار نہ کئے گئے ہوں لیکن اسلام کی محبت کے اتنے دعووں کے با وجود پاکستان کی قومی اسمبلی کے قابل اراکین کو کچھ ہوش نہیں تھی کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔اگر کسی چیز کی ہوش تھی تو اس بات کی کہ کس طرح اس جماعت کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا جائے جو کہ دنیا بھر میں اسلام کے دشمنوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔سب جانتے ہیں کہ تقریباً ایک دہائی سے آنحضرت لی ای کمر پر ہونے والے رکیک حملے پہلے سے زیادہ شدید ہوں گئے ہیں۔آخر اس کی نوبت کیوں آئی؟ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دشمن نے عالم اسلام کو دلائل کی اس جنگ میں غافل پایا اور حملہ مزید شدید کر دیا۔اٹارنی جنرل صاحب کے سوالات اس غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔آنحضرت صلی علیہ نیم کی محبت کا تو یہی تقاضا تھا کہ یہ احباب چوکنا رہتے لیکن یہ سوالات تو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ لوگ دشمنانِ اسلام کی کارروائیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔انا للہ وانا اليه راجعون