دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 400
400 وو دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ” مرزا صاحب 1949ء میں کیوں؟ عیسائی مشنریوں نے کوئی انکوائری شروع کی تھی، اسلام کے خلاف جب انہوں وو نے یہ بات کہی۔“ پھر انہوں نے اس عجیب سوال کو ان الفاظ میں دہرایا کہ ” میں آپ سے یہ پوچھ رہا ہوں کہ 1949ء میں کون سا حادثہ تھا جو انہوں نے کہا؟ دشمن کون تھے ؟“ اٹارنی جنرل صاحب کا یہ سوال پڑھ کر تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ حضرات نہ تو دنیا کی کچھ خبر رکھتے تھے اور نہ ہی کسی عبارت کو سمجھنے کی صلاحیت ظاہر ہو رہی تھی۔اس حوالے میں کہیں یہ ذکر نہیں تھا کہ 1949ء میں ہی یہ متعصبانہ مخالفت ظاہر ہوئی ہے۔اس حوالے میں ایک تاریخی حقیقت کا ذکر ہو رہا تھا اور صدیوں سے یہ معاندانہ رویہ مسلسل ظاہر ہو تا رہا ہے۔اس بات سے صرف وہی شخص انکار کر سکتا ہے جو کہ اس موضوع کے بارے میں کوئی علم نہ رکھتا ہو اور نہ ہی اسے اس بات کی کوئی پرواہ ہو کہ آنحضرت صلی علم کی ذات اقدس پر کس قسم کے حملے کئے جا رہے ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ چودہ سو سال سے آج کے دن تک۔۔۔اس وقت تک وہ تحریک جاری ہے۔“ لیکن اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بار پھر کمال لا علمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کون اسلام کے دشمن تھے ؟ کون آنحضرت صلی نام پر حملہ کر رہے تھے؟" اس پر حضرت خلیفة المسیح الثالث نے فرمایا کہ عیسائیوں کی طرف سے یہ حملے کئے جا رہے تھے۔اس کی وجہ کیا تھے۔اس تھی یہ تو ہمیں نہیں معلوم لیکن اب اٹارنی جنرل صاحب نے آنحضرت صلی الم کی ذات اقدس پر حملہ کرنے والوں کے کرتوتوں پر پردہ ڈالنا چاہتے تھے۔انہوں نے پھر کہا:۔وو ” عیسائی کہاں کر رہے تھے ؟“