دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 388
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 388 پس جماعت اپنے کام میں لگی رہے۔یعنی تدبیر کے ساتھ ، دعاؤں کے ساتھ غلبہ اسلام کے جہاد میں خود کو مصروف رکھے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دیتی چلی جائے۔وہ خدا جو ساری قدرتوں کا مالک اور جو اپنے امر پر غالب ہے۔اس نے جو کہا ہے وہ ضرور پورا ہو گا۔خدا کرے ہماری زندگیوں میں ہماری کوششوں کو مقبولیت حاصل ہو اور غلبہ اسلام کے وعدے پورے ہوں اور ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔“ (86) پاکستان کے لیے دعاؤں کی تحریک کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔”ہمارے : ے ملک کی اکثریت اور بہت بڑی اکثریت نہایت شریف ہے۔وہ کسی کو دکھ پہنچانے کے لیے تیار نہیں لیکن ملک ملک کی عادتیں ہوتی ہیں۔کسی جگہ شریف آدمی مقابلہ کے لیے تیار ہو جاتا ہے اور کسی جگہ شریف آدمی یہ سمجھتا ہے کہ میری شرافت کا تقاضا ہے کہ خاموش رہوں۔جن لوگوں نے یہاں تکلیف کے سامان پیدا کیے ہیں وہ دو چار ہزار یا پانچ دس ہزار سے زیادہ نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ سے ہماری دعا ہے کہ ان کو بھی ہدایت نصیب ہو۔ہمارے دل میں تو کسی کی دشمنی نہیں ہے لیکن آج ملک کو بھی آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔اس لئے احباب جماعت جہاں غلبہ اسلام کے لیے دعائیں کریں وہاں پاکستان جو ہمارا پیارا اور محبوب ملک ہے۔اپنے اس وطن کے لیے بھی بہت دعائیں کریں۔“ (87) جماعت احمدیہ کی طرف سے کارروائی کو صحیح خطوط پر لانے کی ایک اور کوشش اب تک کی کارروائی کو پڑھ کر یہ اندازہ تو بخوبی ہو جاتا ہے کہ کارروائی میں اُٹھائے جانے والے سوالات میں اکثر تو معقولیت سے ہی عاری تھے۔اصل موضوع سے گریز کر کے غیر متعلقہ سوالات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری تھا۔اکثر سوالات کا نہ موضوع سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہی یہ کہا جا سکتا تھا کہ یہ سوالات جماعت کی