دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 389
389 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری طرف سے پیش کئے جانے والے محضر نامے پر کئے جا رہے ہیں۔ایک کے بعد دوسرا پیش کردہ حوالہ غلط نکل رہا تھا۔اس پس منظر میں جماعت احمدیہ کی طرف سے ایک اور کوشش کی گئی کہ کسی طرح یہ کارروائی صحیح خطوط پر شروع کی جا سکے۔چنانچہ پندرہ اگست کو ناظر اعلیٰ مکرم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب نے قومی اسمبلی کے سیکریٹری کو لکھا کہ اس موضوع پر کارروائی کی جا رہی ہے اور ہمیں امید ہے کہ سپیشل کمیٹی کسی صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی خواہش مند ہو گی۔اس کے لئے ہماری رائے ہے کہ تحریری سوال پہلے سے بھیج دیئے جائیں اور ان کے تحریری جوابات جماعت کی طرف سے بھجوائے جائیں اور اگر یہ طریقہ کار پہلے سے اختیار کر لیا جاتا تو ایوان کا بہت سا وقت بچ سکتا تھا اس خط کے آخر میں لکھا گیا تھا۔After all it is not a criminal proceeding or an ordinary legal cross examination of an accused indvidual or a party۔The committee is studying a very serious matter involving religious beliefs of millions of people۔It is a grave moment not only in the history of Pakistan but also in the history of Islam۔I would therefore be grateful if you please convey our request to the steering committee۔I am sure the committee, realising the gravity and seriousness of the issue would grant our request۔20 / اگست کو کارروائی تو شروع ہو گئی لیکن اس خط کا جواب /23/ اگست کو موصول ہوا کہ یہ خط ایوان میں پڑھا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ سپیشل کمیٹی پرانے طریقہ کار پر ہی کام کرتی رہے۔بہر حال یہ جماعت احمدیہ کی طرف سے ایک کوشش تھی کہ اس کارروائی میں کئے جانے والے سوالات کوئی سنجیدہ رنگ اختیار کریں مگر افسوس قومی اسمبلی نے اس کوشش کو بھی کامیاب نہیں ہونے دیا۔