دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 387
387 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری پہلے تو جب جماعت کا وفد ہال سے چلا جاتا تھا تو ممبرانِ اسمبلی جو گفتگو کرتے تھے وہ اسمبلی کے رپورٹرز تحریر کرتے رہتے تھے لیکن وقفہ سے پہلے کچھ اجلاسات کے اختتام پر جب جماعت کا وفد چلا جاتا تھا تو رپورٹرز کو بھی بھیجوا دیا جاتا تھا اور یہ بات چیت تحریر نہیں کی جا سکتی تھی۔اس طرح سپیشل کمیٹی کی کارروائی میں وقفہ ہو گیا۔اٹارنی جنرل صاحب کو تیاری کے لیے اس وقفہ کی ضرورت تھی۔اور جماعت احمدیہ کا امام اپنی جماعت کو کس تیاری کے لیے توجہ دلا رہا تھا اس کا اندازہ اس خطبہ جمعہ سے ہوتا ہے جو حضور نے اس دوران 16/ اگست 1974ء کو مسجد اقصیٰ ربوہ میں ارشاد فرمایا تھا۔حضور نے ارشاد فرمایا:۔”یہ ابتلاؤں کا زمانہ ، دعاؤں کا زمانہ ہے اور سخت گھڑیوں ہی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبت اور پیار کے اظہار کالطف آتا ہے۔ہماری بڑی نسل کو بھی اور ہماری نوجوان نسل اور اطفال کو بھی، مرد و زن ہر دو کو یہ یقین رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی الم کے محبوب مہدی کے ذریعہ غلبہ اسلام کا جو منصوبہ بنایا ہے اسے دنیا کی کوئی طاقت ناکام نہیں کر سکتی۔اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے منصوبوں کو زمینی تدبیریں ناکام نہیں کیا کرتیں۔پس غلبہ اسلام کا یہ منصوبہ تو انشاء اللہ پورا ہو کر رہے گا۔جیسا کہ کہا گیا ہے اسلام ساری دنیا پر غالب آئے گا اور جیسا کہ ہمیں بتایا گیا ہے نوع انسانی کے دل جماعت احمدیہ کی حقیر قربانیوں کے نتیجہ میں حضرت محمد رسول اللہ کے لیے فتح کیے جائیں گے اور نوع انسانی کو حضرت خاتم الانبیاء صلی ال ولیم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں رب کریم کے قدموں میں جمع کر دیا جائے گا۔یہ بشارتیں اور یہ خوش خبریاں تو انشاء اللہ پوری ہو کر رہیں گی۔ایک ذرہ بھر بھی ان میں شک نہیں البتہ جس چیز میں شک کیا جاسکتا ہے اور جس کے نتیجہ میں ڈر پیدا ہوتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ جو ذمہ داریاں اللہ تعالیٰ نے اس کمزور جماعت کے کندھوں پر ڈالی ہیں اپنی بساط کے مطابق وہ ذمہ داریاں ادا کی جا رہی ہیں یا نہیں؟