دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 281
281 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری صاحب اپنی بیچارگی کا اظہار ان الفاظ میں کر رہے تھے کہ میرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر میں حوالہ پڑھ دوں تو میں یہ ہی بھول جاتا ہوں کہ مضمون کیا بیان کرنا تھا۔اب اگر وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ انہیں نسیان کی بیماری ہے تو پھر اس کی ذمہ دار بہر حال جماعت احمد یہ نہیں تھی۔اس پر سپیکر صاحب نے کہا کہ جب حوالہ پڑھیں تو کتاب انہیں دے دی جائے اور جب حوالہ ختم ہو تو وفد اس کا جواب شروع کر سکتا ہے۔حوالہ پڑھا: اب اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بار پھر اپنی علمی قوت جمع کی اور ایک اور حوالہ پڑھنے کا آغاز کیا اور ” سيرة الابدال صفحہ 193“ والا لیکن یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ شائع ہونے والی کارروائی کے مطابق اس مرحلہ پر نہ تو اٹارنی جنرل صاحب اس حوالہ کی عبارت پیش کر سکے اور نہ ہی حسب فیصلہ یہ کتاب جماعت کے وفد کو دی گئی کہ وہ اس عبارت کو دیکھ کر اس کی موجودگی کی تصدیق کر سکے اور خوش قسمتی سے کسی اور موضوع پر بات شروع ہو گئی۔اب ہر پڑھنے سوچے گا کہ ایسا کیوں ہوا ؟ یہ اس لئے ہوا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تصنیف "سيرة الابدال“ کے صرف 16 صفحات ہیں۔اور اٹارنی جنرل صاحب اس کتاب کے صفحہ نمبر 193 سے کوئی حوالہ پڑھنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔اس سے قبل سپیکر صاحب نے ایک ممبر اسمبلی عبدالعزیز بھٹی صاحب کو کہا تھا کہ وہ جس کتاب کا حوالہ پڑھا جا رہا ہو وہ جماعت کے وفد کے حوالے کریں لیکن بھٹی صاحب بیچارے اس مرحلہ پر کیا کرتے۔جس حوالے کا کوئی وجود ہی نہیں تھا وہ جماعت کے وفد کے حوالے کیسے کرتے ؟ یہاں ایک وضاحت ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام کتب روحانی خزائن کے نام سے اکٹھی شائع ہوئی ہیں