دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 280
280 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری تھا تو بیچارے اٹارنی جنرل صاحب کو یقین ہی نہیں آتا کہ انہیں کہا جا رہا ہے کہ آپ کا حوالہ تو جعلی نکلا۔اگر حوالہ جعلی ہے تو پھر ہر ایک کا حق ہے کہ وہ کہے کہ یہ حوالہ جعلی ہے اور جعلی حوالہ پیش کرنے والوں کو یہ سننا پڑے گا۔اب سپیکر صاحب نے انہیں مزید خفت سے بچانے کے لئے کہا۔There might be some bonafider mistake of fact۔But when the book is available, the book may be handed over and the other members of the delegation can verify those۔یعنی: ہو سکتا ہے کہ نیک نیتی سے ہی غلطی ہو گئی ہو مگر جب کتابیں موجود ہیں تو کتاب ان کے حوالے کر دی جائے اور وفد کے دوسرے ممبران اس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔لیکن اٹارنی جنرل صاحب اپنی حوالہ دانی کے بارے میں ابھی بھی پر اعتماد تھے۔انہوں دو حوالے موجود ہیں۔جی!“ اس پر سپیکر صاحب نے کہا کہ متعلقہ کتابیں ان کو یعنی جماعت کے وفد کو دے دیں۔اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نے جو فرمایا وہ ہم حرف بحرف نقل کر دیتے ہیں۔If I give the quotation, then I forget the subject۔I wanted it to be clarified۔یعنی اگر میں حوالہ پڑھوں تو میں مضمون بھول جاتا ہوں۔میں اس معاملہ کی وضاحت چاہتا تھا۔دنیا بھر کا اصول ہے کہ جب کسی عبارت کا حوالہ پیش کیا جائے تو اس کی عبارت پڑھی جاتی ہے۔اور کہ یہ حوالہ کس کتاب یا اخبار یا جریدے سے لیا گیا ہے۔لیکن بیچارے اٹارنی جنرل معین حوالہ دیا جاتا ہے