دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 279
279 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری تبدیل کر کے اپنا مطلب نکالا جائے۔جب حضور نے اس کا جواب دیا تو اس کے ساتھ ہم تمام تفاصیل پیش کریں گے۔اس مرحلہ پر جب اٹارنی جنرل صاحب غلط حوالوں کو پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے تو حضور نے ایک حوالہ کے بارے میں فرمایا کہ ہم چیک کر کے اور سیاق و سباق دیکھ کر اس کی تصدیق کریں گے اور حضور نے فرمایا:۔" آج صبح ایسا حوالہ پیش کیا گیا جس کا وجود ہی نہیں تھا۔ایسے اخبار کا حوالہ تھا جو چھپا ہی نہیں۔“ جیسا کہ ہم حوالوں کے ساتھ ثابت کر چکے ہیں کہ اٹارنی جنرل صاحب نے الفضل کے اس دن کے شمارے کا حوالہ دے دیا تھا جس روز الفضل شائع ہی نہیں ہوا تھا۔ان دنوں الفضل روزانہ شائع نہیں ہوتا تھا۔اس موقع پر کسی معذرت کرنے یا شرمندگی کے اظہار کی بجائے اٹارنی جنرل صاحب نے جو کچھ فرمایا وہ انہی کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا:۔وو ہمیں کہتے ہیں کہ اس کا وجود ہی نہیں۔“ اب پڑھنے والے قومی اسمبلی کی ذہنی کیفیت کے بارے میں خود ہی کوئی رائے قائم کر سکتے ہیں۔سپیشل کمیٹی میں ایک ایسا حوالہ پڑھا گیا جس کے متعلق ثابت کر دیا گیا کہ یہ جعلی ہے۔حوالہ پیش کرنے والے اس کا کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کر سکے کہ اس حوالہ کا کوئی وجود بھی تھا اور کارروائی کے آخر تک اس بات کا کوئی بھی ثبوت مہیا نہیں کیا گیا اور جب اس بات کا ذکر کیا گیا تو نازک مزاجی کا عالم یہ تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا ” ہمیں کہتے ہیں کہ اس کا وجود ہی نہیں۔“ گویا کہ اگر وہ جعلی حوالہ پیش کریں اور جماعت کے وفد سے اس کے بارے میں دریافت فرمائیں اور جماعت کا وفد انہیں باور کرائے کہ اس روز تو الفضل شائع ہی نہیں ہوا