دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 278 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 278

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 278 اسمبلی نے یہ سوال اُٹھایا کہ کیا جماعت کے وفد کو اس کارروائی کی کاپی دی جائے گی تو سپیکر نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہو گا۔جب اس کارروائی کا دوبارہ آغاز ہوا تو بیٹی بختیار صاحب نے دوبارہ یہ بحث شروع کی کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی تحریروں میں مقدس ہستیوں کی توہین کی ہے۔اب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ اس مرحلہ پر وہ کیا حکمت عملی استعمال کر رہے تھے۔اس جائزہ کے نتیجہ میں یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ سوالات کرنے والے احباب ابھی وہی طریقہ استعمال کر رہے تھے کہ یا تو خود ساختہ حوالے پیش کئے جائیں یا پھر اپنی طرف سے ایک معین حوالہ پیش کیا جائے لیکن عبارت کو اس طرح تبدیل کر دیا جائے کہ اس کا مطلب اور مفہوم بالکل بدل جائے اور اس طرح اپنے کمزور موقف میں جان پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔چنانچہ دو پہر کے سیشن میں اٹارنی جنرل صاحب نے یہ حوالہ پڑھا:۔”حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص13) یہ صاف ظاہر ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ ظاہر کر رہے تھے کہ وہ اس حوالے کی معین عبارت پڑھ رہے ہیں اور جو کارروائی شائع کی گئی ہے اس میں بھی یہ عبارت inverted commas میں دکھائی گئی ہے ،جس سے ثابت ہو جاتا ہے کہ اپنی طرف سے اس حوالے کی معین عبارت درج کی گئی تھی لیکن بہت افسوس سے یہ لکھنا پڑتا ہے کہ ” ایک غلطی کا ازالہ“ میں یہ معین الفاظ موجود ہی نہیں ہیں۔اس مبارک کشف کو بیان کرتے ہوئے جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں وہ بالکل ایک اور مفہوم بیان کر رہے ہیں اور جب اس طرح کسی حوالے کی معین عبارت کو پیش کیا جائے تو اسے حرف بحرف صحیح پیش کرنا چاہئیے نہ کہ اس طرح کہ اس کے الفاظ وو