دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 17 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 17

17 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ہیں۔“ (7) اور یہ رسالہ اس بات پر مسلسل اپنے صفحات سیاہ کر رہا تھا کہ احمدی اس مرتبہ انتخابی عمل میں حصہ کیوں لے رہے ہیں (8)۔وہ یہ واویلا تو کر رہے تھے کہ احمدی پیپلز پارٹی کی مدد کر رہے ہیں لیکن ساتھ کے ساتھ یہ الزام بھی لگا رہے تھے کہ جمعیت العلماء اسلام ، جو کہ جماعت کی مخالفت میں پیش پیش رہی تھی، کے جلسے بھی احمدیوں کی مدد سے منعقد کیے جارہے ہیں۔اور یہ دعویٰ بار بار کیا جارہا تھا کہ یہ جماعت اور ان کے لیڈر مثلا مفتی محمود صاحب قادیانیوں سے مدد حاصل کر رہے ہیں۔اس سے وہ دو مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ایک تو یہ کہ ان الزامات سے خوفزدہ ہو کر جمعیت العلماء اسلام اور ان کے قائدین پہلے سے زیادہ بڑھ کر جماعت احمدیہ کی مخالفت میں جوش و خروش کا مظاہرہ کریں گے اور اس طرح جماعت احمدیہ کو نقصان پہنچے گا۔اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ چونکہ یہ جماعت انتخابات میں جماعت اسلامی کے مد مقابل کی حیثیت رکھتی تھی اس طرح ان الزامات سے اس حریف کو نقصان پہنچے گا۔ان الزامات کی زبان ملاحظہ ہو۔مفتی محمود صاحب کی پارٹی جمعیت العلماء اسلام نے آئین شریعت کا نفرنس منعقد کی تو اس پر چٹان نے ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا " قادیانی جماعت نے آئین شریعت کا نفرنس کے انعقاد پر دس ہزار روپیہ دیا تھا۔غلام غوث ہزاروی اور مفتی محمود کس استاد کے آلہ کار ہیں۔اس مضمون میں مضمون نگار نے انکشاف کیا جمعیت العلماء کے دونوں بزرگ ان دنوں ہوا کے گھوڑے پر سوار ہیں۔انھیں قادیانی گوارا ہیں، کمیونسٹ عزیز ہیں غلام لیکن مولانا ابو الاعلیٰ مودودی اور آغا شورش کا شمیری کے خلاف جو زہر ان کے دل میں بیٹھ چکا ہے وہ نکلنا مشکل ہے۔غوث اور مفتی محمود پلکوں سے جاروب کشی کرتے ہوئے مبشر حسن کے گھر جاتے ہیں۔ان کے جلسوں اور جلوسوں کی رونق سرنے ہوتے ،وہی انھیں اچھال رہے ہیں اور ان کی بدولت وہ اچھال چھوکا ہو گئے ہیں۔آئین شریعت کا نفرنس میں جو سبیلیں لگی تھیں، وہ سرخوں کی تھیں یا پھر ایک سبیل کے لیے قادیانی جماعت نے چندہ دیا تھا۔راستہ بھر جھنڈے بھی سرخوں یا پہیوں کے لہرا رہے تھے۔جمعیت کا ایک بھی جھنڈا اکسی کونے یا نکڑ میں نہیں تھا۔“ (8) رسالہ چٹان تو یہاں تک لکھ رہا تھا کہ جمعیت العلماء اسلام مرزائیوں کا بغل بچہ ہے (9)۔اس الزام پر جمعیت العلماء اسلام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جھوٹی خبریں شائع کرنے اور ائمہ کرام پر بہتان تراشی کرنے کے الزام میں چٹان رسالہ پر مقدمہ چلایا جائے۔اس کے جواب میں چٹان نے یہ بیان داغا:۔