دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 16 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 16

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری مخالفین جماعت کا غیظ و غضب 16 جب جماعت احمدیہ نے ملک کے مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے آئندہ انتخابات میں ووٹ اور حمایت کے لیے مندرجہ بالا فیصلہ کیا تو جماعت اسلامی اور دوسری نام نہاد مذہبی جماعتوں کی پریشانی میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا۔وہ اس امر کو اپنی فرضی کامیابی کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھ رہے تھے۔انہیں یہ بات کسی طرح نہیں بھارہی تھی کہ احمدی کسی رنگ میں بھی آئندہ انتخابات میں حصہ لیں۔دوسری طرف یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں بسنے والے احمدی ملک کے محب وطن شہری ہیں۔وہ ٹیکس ادا کرتے ہیں اور اپنے شہری ہونے کے دوسرے حقوق ادا کرتے ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ عمومی طور پر احمدی سیاست میں اس لیے نہیں حصہ لیتے کہ ان کے سامنے اور اعلیٰ مقاصد ہیں اور وہ اپنی توانائی کو ان ادنی کاموں پر خرچ نہیں کرتے لیکن یہ ان کا فیصلہ ہے۔قانونی اور اخلاقی طور پر احمدی اس بات کا مکمل حق رکھتے ہیں کہ وہ جب چاہیں قانون کے مطابق ملک کی سیاست اور انتخابات میں جس طرح پسند کریں حصہ لیں۔کسی اور گروہ یا جماعت کا یہ حق نہیں ہے کہ اپنے آپ کو ملک کی ٹھیکہ دار سمجھتے ہوئے اس پر اعتراض کرے۔بہر حال اب مولوی خیالات کے اخبارات اور رسائل اس بات پر اپنے غیظ و غضب کا اظہار کر رہے تھے کہ احمدی اپنے بنیادی شہری حقوق کے مطابق اس انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ان کا خیال تھا کہ یہ حق صرف انہیں حاصل ہے کہ وہ انتخابی مہم میں حصہ لیں اور اس پر ہر طرح سے اثر انداز ہوں بلکہ اس مہم کی آڑ میں جس طرح دل چاہے جماعت احمدیہ پر حملہ کریں اور یہ اعلان کریں کہ وہ اقتدار میں آکر احمدیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیں گے۔لیکن اگر احمدی اپنا قانونی حق استعمال کرتے ہوئے اس کا جواب دیں یا ملکی مفادات کے تحفظ کی خاطر کسی طرح انتخابی عمل میں حصہ لیں تو اس پر وہ آگ بگولہ ہو جاتے تھے۔ایک طرف تو جماعت کے مخالفین جماعت احمدیہ کو اپنا نشانہ بنا رہے تھے اور دوسری طرف وہ ایک دوسرے پر بھی کیچڑ اچھال رہے تھے۔مولوی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ہیں رسالہ چٹان جماعت کی مخالفت میں پہلے بھی پیش پیش رہ چکا تھا۔اس انتخابی مہم میں یہ رسالہ مودودی صاحب کی جماعت اسلامی کی حمایت کر رہا تھا اور اس کے مدیر یہ اعلان کر رہے تھے ، ”ہم جیسے لاکھوں اشخاص مولانا مودودی سے متاثر ہیں اور صرف اس لئے متاثر ہیں کہ وہ قرآن کی دعوت دیتے ، انبیاء سے عشق پر ابھارتے اور معاشرہ کو عہدِ صحابہ کا نمونہ بنانا چاہتے