دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 163
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 163 اندھیرے میں رکھا جا رہا تھا کہ اس کا کیا بیان قلمبند کیا جا رہا ہے۔اور اس صورت حال میں یہ ریکارڈ مکمل طور پر صحیح طرح محفوظ رکھا گیا کہ نہیں ؟ اس سوال پر کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی اور جماعت احمدیہ کو ایک فریق کی حیثیت سے اس ریکارڈ کی صحت کے متعلق سوال اُٹھانے کا پورا حق حاصل ہے۔اٹارنی جنرل صاحب نے سوالات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ان سوالات کی طرز کا لب لباب یہ تھا کہ کسی طرح یہ ثابت کیا جائے کہ حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مذہبی معاملات میں مداخلت کرے یا اگر کوئی فرد یا گروہ اپنے آپ کو ایک مذہب کی طرف منسوب کرتا ہے تو حکومت کو یہ اختیار ہے کہ اس امر کا تجزیہ کرے کہ وہ اس مذہب کی طرف منسوب ہو سکتا ہے کہ نہیں۔اس لایعنی بات کو ثابت کرنے کے لیے وہ ایسی مثالیں پیش کر رہے تھے جو یا تو غیر متعلقہ تھیں یا ایسی فرضی مثالیں تھیں جن کو سامنے رکھ کر کوئی نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا۔مثلاً انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ میں قرآنِ کریم پر ایمان نہیں لاتا لیکن وہ اس کے ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں تو کیا اسے مسلمان سمجھا جائے گا۔اب یہ ایک فرضی مثال تھی جب کہ ایسا کوئی مسلمان فرقہ موجود ہی نہیں جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتا ہو اور یہ بھی کہتا ہو کہ ہم قرآن پر ایمان بھی نہیں لاتے اور ایسی فرضی اور انتہائی قسم کی مثال پر کوئی نتیجہ نہیں قائم کیا جا سکتا۔پھر وہ یہ مثال لے بیٹھے کہ سعودی عرب میں مکہ اور مدینہ میں صرف مسلمان جا سکتے ہیں لیکن اگر کوئی یہودی اپنے فارم پر اپنا مذہب مسلمان لکھے اور اس بنا پر وہاں پر داخل ہو کر جاسوسی کرنے کی کوشش کرے تو کیا وہاں کی حکومت اسے گرفتار کرنے کی مجاز نہیں ہو گی۔اس پر حضور نے یہ مختصر اور جامع جواب دیا کہ اسے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کے الزام میں نہیں بلکہ ایک ملک میں جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا جائے گا اور یہ حقیقت تو سب دیکھ سکتے ہیں کہ اس مثال میں کسی مذہب کی طرف منسوب ہونا اتنا اہم نہیں، ایسے شخص پر تو جاسوسی کا الزام لگتا ہے۔یہاں پر بیٹی بختیار صاحب کو اپنی مثال