دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 164
164 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کے بودا ہونے کا احساس ہوا تو انہوں نے فوراً بات تبدیل کی اور کہا کہ فرض کریں کہ ایک عیسائی صحافی ہے اور وہ تجسس کی خاطر مکہ اور مدینہ دیکھنا چاہتا ہے اور فارم غلط اندراج (False declaration) کرتا ہے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے تو کیا وہاں کی حکومت اسے روک نہیں سکتی۔اس پر حضور نے جواب دیا کہ اسے توFalse declaration کر دینے کی بنا پر گرفتار کیا جائے گا، غیر مسلم ہونے کی بنا پر گرفتار نہیں کیا جائے گا۔اب یہ مثال بھی زیر بحث معاملہ سے کوئی تعلق نہیں رکھتی تھی۔ایک شخص کسی اور مذہب کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے اور اس نے کبھی اسلام قبول ہی نہیں کیا۔وہ کسی مقصد کی خاطر غلط بیان دیتا ہے اور اپنے آپ کو مسلمان لکھتا ہے۔اس شخص سے کوئی بھی معاملہ کیا جائے لیکن دوسری طرف بالکل اور صورتِ حال ہے۔ایک فرقہ ہے وہ اپنے آپ کو ہمیشہ مسلمان کہتا رہا ہے اور اس نے کبھی بھی اپنے آپ کو کسی اور مذہب کی طرف منسوب نہیں کیا۔ایک سیاسی اسمبلی ایک روز یہ فیصلہ سنانے بیٹھ جاتی ہے کہ اسے اپنے آپ کو مسلمان کہنے کا کوئی حق نہیں۔یہ دونوں بالکل مختلف نوعیت کی مثالیں ہیں۔ނ پھر اٹارنی جنرل صاحب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش شروع کی کہ بنیادی حقوق پر بھی حکومت قد غن لگا سکتی ہے۔اس ہے۔اس سلسلہ میں انہوں نے یہ معرکة الآراء مثال پیش کی کہ لیور برادر زکمپنی ، لکس نام کا صابن بناتی ہے۔اگر کوئی اور کمپنی اس نام سے صابن بنانے لگ جائے تو حکومت اسے روکے گی۔یہ بھی ایک نہایت غیر متعلقہ اور لا یعنی مثال تھی۔صنعتی مصنوعات کے متعلق Patent کرانے کا قانون موجود ہے اور اگر ایک کمپنی چاہے تو اپنی قابلِ فروخت مصنوعات کو اس قانون کے تحت Patent کرا سکتی ہے اور اس کے بعد کوئی اور کمپنی ان ناموں سے منسوب مصنوعات فروخت نہیں کر سکتی۔اسلام یا کوئی اور مذہب قابلِ فروخت آئیٹم تو نہیں کہ کوئی اور گروہ یہ نام استعمال نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی ایک فرقہ نے یہ نام Patent کراکے اس کے استعمال کی اجارہ داری حاصل کی ہے۔چنانچہ حضور نے اٹارنی جنرل صاحب پر واضح فرمایا کہ لیور برادرز کے پاس